‘دی پاور پف گرلز’ نئے انداز میں جلد واپس آئیں گی

ویب ڈیسک

اپنی طاقت کے ذریعے مجرموں کا خاتمہ کرنے والی ‘دی پاور پف گرلز ‘ نئے انداز میں جلد واپس آئیں گی۔

0 0
Read Time:3 Minute, 57 Second

اپنی طاقت کے ذریعے مجرموں کا خاتمہ کرنے والی ‘دی پاور پف گرلز ‘ نئے انداز میں جلد واپس آئیں گی۔

ورائٹی کی رپورٹ کے مطابق پاور پف گرلز کی کلاسک کارٹون سیریز کا لائیو-ایکشن ورژن سی ڈبلیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے تحت بن رہا ہے۔

خیال رہے کہ دی پاور پف گرلز لائیو ایکشن ٹریٹمنٹ حاصل کرنے والا حالیہ کارٹون ہے۔

اوریجنل ‘ پاور پف گرلز’ کو کریگ میک کریکن نے تخلیق کی تھی جو 3 مرکزی کرداروں پر مشتمل تھی۔

اس کارٹون سیریز میں پروفیسر یوٹونیم نے چینی، مرچیں اور ہر اچھی چیز کو پراسرار کیمیکل ایکس کے ساتھ ملا کر ایک تجربہ کیا تھا جس کے نتیجے میں حادثاتی طور پرپرائمزری اسکول کے بچوں کی عمر جتنی 3 سپرہیروز بلاسم، ببلز اور بٹر کپ بن گئی تھیں۔

یہ سیریز 6 سیزنز پر مشتمل تھی جس کی مجموعی طور پر 78 اقساط 1998 سے 2005 کے درمیان نشر کی گئی تھیں۔

—فوٹو:کارٹون نیٹ ورک

علاوہ ازیں 2002 میں ‘ دی پاور پف گرلز مووی’ ریلیز کی گئی تھی جبکہ 2016 میں کارٹون نیٹ ورک پر اس کی اینیمیٹڈ سیریز کو دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔

پاور پف گرلز میں بلاسم ٹیم کی خودساختہ لیڈر ہے اور حکمت عملی طے کرتی ہے، بلاسم کی شخصیت کا جزو ‘ سب اچھا’ ہے اور اس کا رنگ گلابی ہے۔

پروفیسر یوٹونیم کی جانب سے حادثاتی طور پر بنائے جانے کے بعد آزادانہ طور پر اور ایمانداری سے بات کرنے پر بلاسم کو یہ نام دیا گیا تھا۔

بلاسم اپنی سانس کے ذریعے چیزوں کو منجمد کرنے کی منفرد طاقت بھی رکھتی ہے۔

اس کے بعد ببلز ہے جو خوبصورت اور حساس ہے جس کی شخصیت کا جزو ‘ چینی’ ہے اور رنگ آسمانی ہے جبکہ بالوں کا رنگ پیلا ہے۔

ببلز کو یہ نام شخصیت کی وجہ سے دیا جو بہت مہربان اور پیاری ہے لیکن وہ انتہائی غصے والی ہے اور اپنی بہنوں سے لڑنے کے ساتھ ساتھ مونسٹرز سے بھی لڑسکتی ہے۔

ساتھ ہی ببلز اپنی آواز کے ذریعے سپر سونک لہریں نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تیسری اور آخری پاور پف گرل بٹر کپ، تینوں میں سب سے الگ ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی منفرد سپر پاور نہیں ہے۔

بٹر کپ کی شخصیت کا جزو ‘ مرچ’ ہے اور رنگ سبز ہے جبکہ بالوں کا رنگ سیاہ ہے۔

ساتھ ہی وہ ہر وقت موج مستی کرنے کو تیار رہتی ہے لیکن مجرموں سے بہت سخت لڑائی بھی کرتی ہے۔

اب سیریز کے جدید ورژن میں پاور پف گرلز پرائمری کے بچوں کی عمر سے نکل کر بڑی ہوگئی ہیں اور ان کی عمریں 20 برس سے زائد ہیں۔

تاہم اس نئی سیریز میں پاور پف گرلز اپنا بچپن جرائم کے خلاف لڑائی میں کھوجانے پر ناراض پر ہیں۔

—فوٹو: کارٹون نیٹ ورک

اب پاور پف گرلز کی نئی سیریز دیکھ کر پتا چلے گا کہ کیا بلاسم، بٹر کپ اور ببلز دوبارہ متحد ہونے پر راضی ہوں گی یا نہیں کہ دنیا کو شاید پہلے سے زیادہ ان کی ضرورت ہے؟

اس پروجیکٹ پر ہیتھر ریگنائر اور ڈیابلو کوڈی بطور لکھاری اور پروڈیوسرز کام کررہے ہیں جبکہ برلانٹی پرڈکشن، وارنر بروس ٹیلی ویژن کی جانب سے گریگ برلانٹی، سارہ شیجٹر اور ڈیوڈ میڈن نئی سیریز کے ایگزیکٹو پروڈیوسرز ہیں۔

پاور پف گرلز کا لائیو ایکشن ورژن کب نشر ہوگا اس حوالے سے کوئی اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ ڈیابلو کوڈی اور ہیتھر ریگنائر اپنے مختلف پروجیکٹس پر اعزازات حاصل کرچکے ہیں، کوڈی نے 2008 میں جونو ڈرامے پر بہترین اوریجنل اسکرین پلے کا اکیڈمی ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا۔

دوسری جانب گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ اعلان پر صارفین کا ردعمل منفی آیا ہے اور سوشل میڈیا صارفین نے سی ڈبلیو سے مطالبہ کیا ہے کہ ‘ان کا پچپن برباد نہ کریں’۔

اس حوالے سے ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ اگر یہ حقیقت ہے تو بےتکی ہے کیونکہ پاور پف گرلز کو اپنا بچپن جیتے دکھایا تھا جس میں جرم اکثر مداخلت کرتا تھا۔

انہوں نے لکھا کہ مجھے لگتا ہے کہ آدھے شو میں پروفیسر یوٹونیم لڑکیوں کے اچھے ڈیڈ بننے کی کوشش کریں گے۔

ایک اور صارف نے ٹوئٹ کیا کہ سی ڈبلیو پاور پف گرلز کی لائیو ایکشن سیریز بنارہا ہے، ٹیلنٹ کے ہونے کے باوجود میں نہیں جانتا کہ یہ کیسا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس شو میں کچھ خاص ہے جو اینیمٹڈ کے لیے بنایا گیا اور اس کا لائیو ایکشن بنانا حقیقتاً عجیب ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بھارت: شہریت قانون کیخلاف مظاہروں کا منتظم طالبعلم دہلی فسادات کے الزام میں گرفتار

بھارتی دارالحکومت کی پولیس نے جواہرلعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے ایک طالبعلم شرجیل امام کو نئی دہلی میں فروری میں ہونے والے فسادات کو برپا کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا جس کے بارے میں کہا جا رہا کہ یہ پہلے ملک کے متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کا انتظام کرنے میں ملوث تھا۔
sharjeel_imam_citizenship_wSD