13ویں عالمی اردو کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:3 Minute, 32 Second

اتوار (6 دسمبر) کو اپنے اختتام کو پہنچنے والی اس کانفرنس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ، کورونا وائرس کی دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے مؤثر انتظامات، خاص طور پر معاشرے کے غریب طبقات کے لیے، کشمیریوں کے حقوق اور ان کے حق خودارادیت کے لیے آواز اٹھانے، قومی اور صوبائی سطح پر ترجمے کے مراکز قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ فن، فلسفے، ادب اور معاشیات کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا جاسکے۔

سوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ قرارداد آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے پڑھی تھی۔

جس کے بعد معروف مصنف انور مقصور نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب کیا۔

انہوں نے عالمی وبا کو اردو ادب کے کام سے جوڑا، اس کے بعد انہوں نے اپنے طنز کی توجہ خواتین شاعروں کی طرف موڑ دی۔

ایک شاعر کے بارے میں بات کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ وہ نہیں جانتیں کہ غزل کی ابتدائی 2 لائنز کیا کہتے ہیں۔

کانفرنس کے آخری روز بات چیت کے 2 سیشن ہوئے، ہدایت کار ندیم بیگ نے ہمایوں سعید سے بات چیت کی، اداکار ہمایوں سعید نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ 80 سے 90 فیصد افراد جو ٹی وی پلیز لکھتے ہیں ان کی لکھائی میں گہرائی نہیں۔

انہوں نے سینئر پلے رائٹس جسا کہ حسینہ معین اور نورالہدیٰ شاہ کو سراہا کہ جس طرح وہ کردار لکھتی تھیں اور ان میں گہرائی ہوتی تھی۔

ہمایوں سعید نے کہا کہ شوبز شخصیات کو تخلیقی وینچرز کے لیے سینئر لکھاریوں کے ساتھ مصروفِ عمل ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال کی وجہ سے ڈیجیٹل میڈیم شو بزنس پر اچھے اور برے دونوں اثرات مرتب کرے گی۔

اداکار نے مزید کہا کہ ملک مین کورونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے کے بعد سنیما دوبارہ کھل جائیں گے۔

ہدایت کار ندیم بیگ نے کہا کہ سنیما انڈسٹری کو حکومت کی مداخلت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب اداکار یاسر حسین نے سہیل احمد کا انٹرویو کیا، اداکار کیسے بننے سے متعلق سہیل احمد نے بتایا کہ ان کے نانا ریڈیو پر ایک ادبی شو کرتے تھے جس سے وہ متاثر ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کسی فنکار کے لیے، اگر اس کا جنون اس کا پیشہ بن جاتا ہے تو اسے اپنے لیے نعمت سمجھنا چاہیے۔

سہیل احمد نے اپنے ساتھیوں جیسا کہ عمر شریف اور مرحوم معین اختر اور امان اللہ کی تعریف کی۔

حکومت کی جانب سے ثقافت پر توجہ نہ دینے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ جو قومیں اپنی ثقافت کی پروا نہیں کرتی ہیں انہیں ایک جغرافیے کی تبدیلی کے خطرے کا سامنا ہوتا ہے۔

اس سے قبل، دن کا آغاز رضوان زیدی کی جانب سے اردو ادب میں تنقید کے 100 سال پر ایک نگاہ سے ہوا تھا جس کی صدارت معروف بھارتی اسکالر شفیع قدوائی نے کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم اردو میں 100 سالوں کی تنقید کا تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے تو ہم دیکھیں گے کہ اس کا علی گڑھ تحریک سے تعلق ہے۔

محمد حسین آزاد جنہوں نے آب حیات تحریر کی، مولانا الطاف حسین حالی اور شبلی نے تنقید کی بنیاد رکھی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی مقامی طور پر تیار کیا جارہا ہے اس کی عالمی جہت ہوگی, اسی تناظر میں انہوں نے راجندر بیدی کی کہانی ایک چادر میلی سی کی مثال دی تھی۔

ان سے قبل لاہور سے ڈاکٹر حمیدہ شاہین نے اردو تنقید پر ثقافتی یلغار کے اثرات کے بارے میں بات کی تھی۔

ڈاکٹر حمیدہ شاہین نے تنقید کا تعلق مغربی تہذیب سے جوڑا اور نشاندہی کی کہ اس کے اثرات کو مسترد کرنے اور قبول کرنے دونوں کی جانچ کی ضرورت ہے۔

علاوہ ازیں اکٹر قاضی عابد نے کہا کہ ہمارے تنقید نگاروں نے مصنف کی آواز کو اس کی زندگی یا کہانی کے نفسیاتی تناظر کے حوالے سے زیادہ اہمیت دینے کی کوشش کی ہے لیکن مواد میں اپنی آواز سننے کی اہلیت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ آج ہم پریم چند کی پسند کی لکھی گئی کہانیوں کے بارے میں نئی رائے جانتے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

وزارت داخلہ کی صوبائی حکومتوں کو سیاسی و مذہبی جماعتوں کی 'ملیشیاز' کی نگرانی کی ہدایت

وفاقی وزارت داخلہ نے صوبائی حکومتوں کو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی تشکیل دی گئی ‘ملیشیاز’ کے افعال کا جائزہ لینے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کردی۔ اس سلسلے میں سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کی جانب سے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز […]
army-wSD