افغان تنازع کا فوجی حل نہیں، سیاسی مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں، عارف علوی

ویب ڈیسک

صدر مملکت عارف علوی نے افغانستان کی قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان تنازع کا فوجی حل نہیں اور سیاسی مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں۔

0 0
Read Time:2 Minute, 21 Second

صدر مملکت عارف علوی نے افغانستان کی قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان تنازع کا فوجی حل نہیں اور سیاسی مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں۔

افغانستان کی قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے آج صدر مملکت عارف علوی سے ایوان صدر میں ملاقات کی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا افغانستان کی تعمیرنو کیلئے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ

صدر مملکت نے افغان امن عمل کی پیشرفت پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کی قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

صدر عارف علوی نے افغانستان کی زیر قیادت اور ان کے اپنے امن عمل کے لیے پاکستان کی حمایت کی یقین دہانی کرائی اور زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اور اس کا واحد حل سیاسی طریقے سے مذاکرات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امن عمل میں پاکستان کے کردار ک عالمی برادری نے بھی سراہا اور دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا انعقاد بارش کا پہلا قطرہ ہے۔

عارف علوی نے کہا کہا افغان قیادت کو تعمیراتی انداز میں مل کر کام کرتے ہوئے اس تاریخی مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ایک وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیے کو یقنی بنانا چاہیے۔

در مملکت نے یقین دہانی کرائی کہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے افغان قوم جو بھی فیصلہ کرے گی، پاکستان اس فیصلے کے ساتھ کھڑا ہو گا۔

صدر نے امن مذاکرات میں صبر اور استقامت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان عناصر پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو خطے میں امن کی واپسی دیکھنا نہیں چاہتے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ افغاستان میں امن پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ساتھ خطے کے لیے بھی اہم ہے تاکہ معاشی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔

صدر مملکت نے افغان امن عمل میں روڑے اٹکانے والے عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن نہ صرف خطے بلکہ پاکستان اور افغانستان کے معاشی مفاد میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کورونا وبا کے باوجود افغان ٹرانزٹ ٹریڈ آسان بنانے کے لیے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھولے ہیں اور دونوں ممالک کو تجارت ، ٹرانزٹ ٹریڈ اور عوامی رابطوں کو بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں ہسپتالوں، اسکولوں اور سڑکوں سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے اور پاکستان افغان طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے مزید مواقع فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین کے طور پر پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر ہیں۔

اپنے تین روزہ دورے کے دوران انہوں نے پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان اور دیگر اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

آئی ٹی کے استعمال سے ملکی برآمدات بڑھا سکتے ہیں، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے پیچھے رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں اشرافیہ کے لیے منصوبہ بندی کی گئی تاہم مجھے امید ہے کہ ہم آئی ٹی اور نوجوانوں کو استعمال کرکے اپنی برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں۔
imran-khan-wSD