وزیر اعظم کسی کو بھی مشیر مقرر کرسکتے ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ

ویب ڈیسک

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزیر اعظم کے معاون مرزا شہزاد اکبر کی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم آئین کے مطابق کسی کو بھی مشیر کے طور پر مقرر کرسکتے ہیں۔

0 0
Read Time:3 Minute, 32 Second

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزیر اعظم کے معاون مرزا شہزاد اکبر کی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم آئین کے مطابق کسی کو بھی مشیر کے طور پر مقرر کرسکتے ہیں۔

گزشتہ روز ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایڈووکیٹ پرویز ظہور کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کررہے تھے جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر شہزاد اکبر کی تقرری کو چیلنج کیا گیا تھا۔

درخواست میں عدالت سے شہزاد اکبر کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی گئی تھی اور استدلال کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی معاونین کی اسناد اور احتساب پر وزیر اعظم کے معاون کی حیثیت سے ان کی تعیناتی پر سوالات اٹھائے تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ اکبر ‘سیاسی اثر و رسوخ استعمال کررہے ہیں’۔

آج سماعت کے دوران جسٹس من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ‘اگر وزیر اعظم کسی قابل شخص کو اپنا مشیر مقرر نہیں کرتے تو یہ ان کی صوابدید ہے’۔

اپنے دلائل میں درخواست گزار کے وکیل امان اللہ کنرانی نے استدلال کیا کہ غیر منتخب ممبران کی تقرری قومی اسمبلی کے قواعد کے منافی ہے جس پر جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‘آئینی طور پر وزیر اعظم کسی کو بھی مشیر کے طور پر مقرر کرسکتے ہیں’۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ‘شہزاد اکبر وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں’۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ چینی بحران سے متعلق ایک کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ شہزاد اکبر ‘وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بن سکتے’۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران شہزاد اکبر نے وفاقی وزرا کے موجود ہونے کے باوجود سوالات کے جوابات دیئے تھے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘ہم نے اپنے شوگر ملز کے فیصلے میں یہ لکھ دیا ہے، اب کیا ایسی چیز ہوئی کہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ وہ نیب میں مداخلت کر رہے ہیں؟ ‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘محض ایک نام رکھ دینے سے کسی کی مداخلت ثابت تو نہیں ہو جاتی، کیا انہوں نے چیئرمین نیب کے معاملات میں مداخلت کی؟، کیا ایف آئی اے میں مداخلت کی؟ ایسا آپ نے کچھ ہمارے سامنے نہیں رکھا’۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ‘وزیراعظم پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم پارلیمنٹ کو مضبوط کریں، گورننس کی کمی اور قوانین کے عدم عمل درآمد کی وجہ سے بعض ایشوز پیدا ہوتے ہیں، اگر یہ قانونی کی حکمرانی کا معاملہ ہے تو بہتر نہیں کہ آپ اسے اپنی بار کونسلز کے پاس لے کر جائیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘کیا ہمیں یہ وقت اس طرح کے کیسز میں لگانے کی بجائے عام سائلین کے لیے نہیں دینا چاہیے، آپ کے لیے ہم آبزرویشن دیدیتے ہیں کہ نیب آزاد ادارہ ہے اس میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا ہے’۔

بعد ازاں ہائی کورٹ نے اس کیس سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

واضح رہے کہ شہزاد اکبر کو ایک اور کیس میں بھی نامزد کیا گیا ہے جس میں 15 معاون خصوصی کی تقرریوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔

کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے علیحدہ بینچ کی جانب سے کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال 22 جولائی کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا عہدہ تبدیل کرکے انہیں عمران خان کا مشیر برائے داخلہ و احتساب مقرر کردیا گیا تھا۔

کابینہ سیکریٹریٹ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر مرزا شہزاد اکبر کو عمران خان کا مشیر برائے احتساب اور داخلہ امور مقرر کیا، اس سے قبل وہ معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ امور اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

واضح رہے کہ قانونی طور پر وزیر اعظم کے مشیر کا عہدہ وفاقی وزیر اور معاون خصوصی کا وزیر مملکت کے برابر ہوتا ہے۔

وزیر اعطم کے معاون خصوصی مقرر ہونے سے قبل شہزاد اکبر قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف مختلف عدالتوں میں دائر کی جانے والی درخواستوں کی پیروی کرتے تھے جبکہ انہوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نیب میں بطور معاون بھی کام کیا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

’ماتحت عدلیہ کے فیصلے کیخلاف کیسز کی دوبارہ تحقیقات وقت کا ضیاع ہے‘

سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کو صرف ماتحت عدلیہ کے فیصلے کی توثیق کرنی چاہیے، تفصیلی وجوہات اور دوبارہ تحقیقات کرنا غیر ضروری اور عوام کے وقت کا ضیاع ہے۔
supreme-court-wSD