وزیر اعظم کے معاون خصوصی کی بریت کیخلاف نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

ویب ڈیسک

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے نندی پور ریفرنس میں وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان، جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی اور شریک ملزم سابق سیکریٹری قانون مسعود چشتی کی بریت کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کی گئی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

0 0
Read Time:2 Minute, 35 Second

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے نندی پور ریفرنس میں وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان، جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی اور شریک ملزم سابق سیکریٹری قانون مسعود چشتی کی بریت کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کی گئی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے اپیلوں کی سماعت کی۔

جسٹس من اللہ نے ریمارکس دیے کہ نیب گورننس سسٹم کے ساتھ تباہ کن کھیل رہا ہے۔

انہوں نے پوچھا کہ کیا نیب بیوروکریٹس کے لیے ’چھوٹ‘ واپس لینا چاہتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ بیوروکریسی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ اچھی حکمرانی کے لیے نقصان دہ ہے۔

نیب پراسیکیوشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزارت پانی و بجلی نے نندی پور بجلی منصوبے کے بارے میں چینی کمپنی کے ساتھ معاہدے کے لیے وزارت قانون و انصاف سے قانونی رائے طلب کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت قانون نے قانونی رائے پیش کرنے میں تاخیر کی جس کے نتیجے میں لاگت میں اضافہ ہوا اور اس منصوبے کے آغاز میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی۔

نندی پور پاور پراجیکٹ کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 27 دسمبر 2007 کو 32 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی لاگت سے منظور کیا تھا، منظوری کے بعد 28 جنوری 2008 کو ناردرن پاور جنریشن کمپنی اور چین کی ڈونگ فینگ الیکٹرک کارپوریشن کے مابین ایک معاہدے پر دستخط ہوئے اور منصوبے کو مالی اعانت کی فراہمی کے لیے دو کنسورشیم 6کروڑٹ 89لاکھ 67 ہزار یوروز کی لاگت سے کوفیس اور 15کروڑ ایک لاکھ 51ہزار ڈالر کی لاگت سے سینوشور کو قائم کیا گیا تھا۔

وزارت پانی و بجلی نے جولائی 2009 میں معاہدے کے شیڈول کے مطابق وزارت قانون سے اس منصوبے کے بارے میں قانونی رائے طلب کی تھی لیکن ملزم نے بار بار قانونی رائے دینے سے انکار کردیا۔

وزارت پانی وبجلی بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بروقت کوئی ٹھوس اقدام اٹھانے میں ناکام رہی اور معاملہ زیر التوا رہا۔

جسٹس من اللہ نے نیب سے استفسار کیا کہ کیا معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد وزارت قانون سے پوسٹ پوسٹ کی منظوری لی جاسکتی ہے، انہوں نے استغاثہ سے کہا کہ وہ کسی بھی دستاویز سے یہ دعویٰ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ مسعود چشتی نے اس وقت کے سیکریٹری قانون کی حیثیت سے کاروباری قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ کیس دوسرے ملک کے ساتھ معاہدے پر مبنی ہے، اگر اس طرح کا عمل جاری رہا تو اس سے بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

بینچ نے دریافت کیا کہ کیا غیر ملکی کمپنی کو بتایا گیا کہ وزارت قانون کی پیشگی منظوری کے بغیر معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں؟۔

انہوں نے مزید کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ نہیں بنتا، اگر جرم سرزد نہیں ہوا تو یہ ریفرنس حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔

بعدازاں بینچ نے نندی پور ریفرنس سے متعلق تمام اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

موٹروے گینگ ریپ کیس: مرکزی ملزم عابد ملہی 14 روزہ ریمانڈ پر جیل منتقل

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے موٹروے گینگ ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
motarway-case-wSD