’ماتحت عدلیہ کے فیصلے کیخلاف کیسز کی دوبارہ تحقیقات وقت کا ضیاع ہے‘

ویب ڈیسک

سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کو صرف ماتحت عدلیہ کے فیصلے کی توثیق کرنی چاہیے، تفصیلی وجوہات اور دوبارہ تحقیقات کرنا غیر ضروری اور عوام کے وقت کا ضیاع ہے۔

0 0
Read Time:1 Minute, 13 Second

سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کو صرف ماتحت عدلیہ کے فیصلے کی توثیق کرنی چاہیے، تفصیلی وجوہات اور دوبارہ تحقیقات کرنا غیر ضروری اور عوام کے وقت کا ضیاع ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے ماتحت عدلیہ کے فیصلوں سے متعلق یہ تحریری حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیلوں کے کیس میں جاری کیا۔

فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بدلتے وقت کے ساتھ پرانے طریقہ کار بدل جاتے ہیں، کوئی چیز پتھر پر لکیر نہیں ہوتی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بڑھتی آبادی اور پیچیدہ قانونی مسائل کا تصوراتی حل ضروری ہے، دنیا بھر کی عدالتوں میں جدید طریقے اپنائے جارہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ جس مقدمے میں ماتحت عدلیے کے فیصلے کو برقرار رکھنا ہو اس میں وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، سپریم کورٹ کو صرف ماتحت عدلیہ کے فیصلے کی توثیق کرنی چاہیے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کیسز کی تفصیلی وجوہات اور دوبارہ تحقیقات کرنا غیر ضروری اور عوام کے وقت کا ضیاع ہے لہٰذا وقت بچا کر ان فیصلوں پر صرف کرنا چاہیے جن سے اختلاف کیا جائے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا کہ ماتحت عدلیہ کے فیصلے میں کوئی غلطی نظر نہ آئے تو مختصر فیصلہ دینا چاہیےجو شفاف ٹرائل کے عدالتی طریقے کے بالکل خلاف نہیں ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹھوس وجوہات نہ ہونے کے باعث نظر ثانی اپیلیں خارج کردی جاتی ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ایک کیفے میں فیس ماسک نہ پہننے والے 56 افراد کورونا وائرس سے متاثر

جنوبی کوریا میں نوول کورونا وائرس کے کم از کم 56 کیسز کافی کی تیاری کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر معروف کمپنی اسٹار بکس کی ایک شاخ میں سامنے آئے ہیں۔
coronavirus-wSD