گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر پاکستان کا احتجاج، فرانسیسی سفیر دفترخارجہ طلب

ویب ڈیسک

پاکستان نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر ایمانیئول میکرون کی جانب سے اسلام مخالف بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فرانسیسی سفیر کو دفترخارجہ طلب کرلیا۔

0 0
Read Time:4 Minute, 54 Second

پاکستان نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر ایمانیئول میکرون کی جانب سے اسلام مخالف بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فرانسیسی سفیر کو دفترخارجہ طلب کرلیا۔

سوہنی دھرتی نیوز ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ فرانسیسی سفیر کو دفترخارجہ طلب کیا گیا، جہاں مذکورہ معاملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مذکورہ معاملے پر پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے تاکہ ان کو احتجاج ریکارڈ کرایا جائے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ اسلام کے خلاف نفرت انگیز بیانیے اور گستاخانہ خاکوں کا نوٹس لے اور مؤثر کارروائی کرے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام مخالف بیانیے اور گستاخانہ خاکوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرے، آج جو نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں اس کے نتائج شدید ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے پوری دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون کے غیرذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرے، آج نفرت کے جو بیج بوئے جارہے ہیں ان کے نتائج شدید ہوں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے تاکہ ان کو احتجاج ریکارڈ کرایا جائے۔

اپنے بیان میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں ایک جامع قرارداد پیش کی جائے گی، جس میں 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کی تجویز دی جائے گی۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ٹرینڈ ہے جس کی نشاندہی پہلے کرچکے ہیں، کچھ عرصے قبل چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکوں کا پروگرام منعقد کرنے کی کوشش کی جس پر پاکستان نے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے، جس کی وزیراعظم عمران خان نے نشاندہی کی تھی اور کہا تھا کہ اس پر قابو نہیں پایا تو معاملات بگڑیں گے، ساتھ ہی انہوں نے تاریخی ہوا دیا تھا کہ جب ہولوکاسٹ کی صورتحال سامنے آئی تو مہذب معاشروں نے اس پر ردعمل دیا اور اس پر قدغن لگائی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اسی سلسلے میں وزیراعظم نے فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کو خط لکھا ہے کہ جب ہولوکاسٹ پر پابندی لگ سکتی ہے تو اسلام مخالف مواد پر بھی پابندی لگنی چاہیے۔

معاملے کا پس منظر

خیال ریے کہ فرانسیسی ہفت روزہ میگزین چارلی ہیبڈو نے 2006 میں ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کی تھی، جس پر دنیا بھر میں مظاہرے کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود 2011 میں مذکورہ میگزین نے پھر ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کی۔

اسی میگزین نے دنیا بھر میں ہونے والے احتجاج کے باوجود وقتا فوقتاً ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت جاری رکھی، جس پر 7 جنوری 2015 کو اس کے دفتر پر دو بھائیوں نے مسلح حملہ کیا تھا جس میں جریدے کا ایڈیٹر، 5 کارٹونسٹ سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مذکورہ واقعے کے بعد میگزین نے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کا سلسلہ روک دیا تھا، تاہم گزشتہ سال ایک بار پھر مذکورہ میگزین میں ’توہین آمیز خاکوں‘ کی اشاعت ہونے لگی تھی، جس پر دنیا بھر میں اسلامی ممالک کی حکومتوں نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔

رواں ماہ فرانس کے ایک اسکول میں استاد نے آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے 2006 میں شائع کردہ گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔

چارلی ہیبڈو کی جانب سے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا تھا کہ فرانس میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے فیصلے پر وہ کوئی حکم نہیں دے سکتے۔

بعد ازاں چند روز بعد ایک شخص نے مذکورہ استاد کا سر قلم کردیا تھا جسے پولیس نے جائے وقوع پر ہی گولی مار کر قتل کردیا تھا اور اس معاملے کو کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک کیا گیا تھا۔

مذکورہ واقعے کے بعد فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کو ‘ہیرو’ اور فرانسیسی جمہوریہ کی اقدار کو ‘مجسم’ بنانے والا قرار دیا تھا اور فرانس کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے بھی نوازا تھا۔

پیرس میں مذکورہ استاد کی آخری رسومات میں فرانسیسی صدر نے خود شرکت کی تھی جس کے بعد 2 فرانسیسی شہروں کے ٹاؤن ہال کی عمارتوں پر چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں کی کئی گھنٹوں تک نمائش کی گئی تھی۔

استاد کے سر قلم کیے جانے اور فرانسیسی صدر کے متنازع بیان کے بعد ہی عرب ممالک سمیت دیگر اسلامی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ سمیت فرانسیسی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

یہی نہیں بلکہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کو 2 مرتبہ ’دماغی معائنہ‘ کرانے کی تجویز دی تھی، جس کے بعد فرانس نے ترکی سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

قبل ازیں رواں ماہ کے آغاز میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس کے سیکیولر “بنیاد پرست اسلام” کے خلاف دفاع کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی تھی اور اس دوران اسلام مخالف بیان بھی دیا تھا۔

ایمانوئیل میکرون نے فرانس کی سیکیولر اقدار کے ‘بنیاد پرست اسلام’ کے خلاف ‘دفاع’ کے لیے منصوبے کو منظر عام پر لاتے ہوئے اسکولوں کی سخت نگرانی اور مساجد کی غیر ملکی فنڈنگ کے بہتر کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

’جبری گمشدگی کے مسئلے سے ناواقف مریم نواز نے گرفتار دہشتگرد کی بھی حمایت کی‘

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ جبری گمشدگی کا معاملہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے کبھی ایک لفظ نہیں کہا اور اس سے ناواقفیت کی وجہ سے ’مریم نواز کو اندازہ نہیں ہوا کہ وہ ایک گرفتار دہشت گرد کی تصویر کی بھی حمایت کررہی تھیں‘۔
maryam-nawaz-wSD