ججز کو دھکمیاں دینے کا معاملہ: ملزم افتخارالدین کیخلاف دہشتگردی کی دفعہ ختم

ویب ڈیسک

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سپریم کورٹ کے دیگر ججز کو دھمکیاں دینے اور ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے والے راولپنڈی کے مولوی آغا افتخار الدین مرزا کے کیس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی دفعات کو خارج کردیا۔

0 0
Read Time:2 Minute, 20 Second

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سپریم کورٹ کے دیگر ججز کو دھمکیاں دینے اور ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے والے راولپنڈی کے مولوی آغا افتخار الدین مرزا کے کیس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی دفعات کو خارج کردیا۔

سوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق دھمکیاں ایک ویڈیو لیکچر میں دی گئی تھیں، جو رواں سال جون میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

اس واقعے کے بعد چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی جانب سے معاملے پر ازخود نوٹس لیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے فیصلہ دیا کہ درخواست میں مولوی افتخار الدین پر لگایا گیا الزام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتا لہٰذا عدالت نے کیس کو دوبارہ سیشن کورٹ کو بھیج دیا۔

درخواست گزار مولوی افتخارالدین مرزا کو انسداد دہشت گردی عدالت کی دفعہ 6 کے ساتھ ساتھ برقی جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) 2016 اور پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 500 کا سامنا کرر رہے تھے۔

تاہم انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 6 خارج کیے جانے کے بعد ملزم کو پییکا اور پی پی سی کے تحت ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگا۔

پی پی سی کی دفعہ 500 کے مطابق ہتک عزت پر جرمانے کے ساتھ ساتھ 2 سال تک سزا بڑھائی جاسکتی ہے۔

یاد رہے کہ ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران افتخارالدین مرزا نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ جمع کروایا تھا، جس میں کہا گیا تھا ‘نجی تقریب میں بات چیت کے دوران (انہوں) نے غیر ارادی طور پرعدلیہ، ججز کے خلاف کچھ الفاظ کہے، (وہ) بہت شرمندہ ہیں اور اپنے الفاظ کے لیے معذرت خواہ ہیں، وہ غیر مشروط معافی مانگتے ہیں اور خود کو عدالت عظمیٰ کے حوالے کرتے ہیں’۔

معاملے کا پس منظر

خیال رہے کہ جسٹس عیسیٰ پر صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر عدالت عظمیٰ نے 19 جون کو مختصر فیصلہ جاری کیا تھا جس میں ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔

تاہم 24 جون کو سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے پولیس کو ایک درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے خاندان کی زندگی خطرے میں ہے کیونکہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا تھا کہ ایک شخص ( افتخارالدین مرزا ) نے ویڈیو میں کہا کہ ان کے شوہر کو سرعام گولی ماری جائے، ساتھ ہی انہوں نے اپنی شکایت کے ساتھ دھمکی آمیز ویڈیو پیغام پر مشتمل یو ایس بی بھی جمع کروائی تھی۔

بعد ازاں مذکورہ معاملے پر چیف جسٹس پاکستان نے ازخود نوٹس لیا تھا اور معاملے کی عدالت عظمیٰ میں سماعت ہوئی تھی، جہاں ملزم آغا افتخار الدین مرزا پر فرد جرم عائد کردی گئی تھی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

وزیر خارجہ کی اسلاموفوبیا پر ترک صدر کے ’ٹھوس مؤقف‘ کی تعریف

خیال رہے کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی صدر کی جانب سے اس روش کو ترک نہ کرنے کے بیان پر ترک صدر نے انہیں دماغی معائنہ کروانے کی تجویز دی تھی۔ علاوہ ازیں شاہ محمود قریشی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے حالیہ اجلاس میں ے ترکی کی جانب سے پاکستان کی حمایت پرشکریہ ادا کیا۔ اسی دوران ترک وزیر خارجہ نے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر کامیابی کے ساتھ عملدرآمد کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن کی فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل، پورے ہفتے احتجاج کا اعلان ترک وزیر خارجہ نے پشاور میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے نقصان پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے اظہار تعزیت کیا جس میں 8 افراد جاں بحق اور 110 زخمی ہوگئے تھے۔ دونوں وزرائے خارجہ کا خطے میں امن و استحکام سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ افغان وزیر خارجہ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان وزیر خارجہ محمد حنیف آتمر کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دونوں ہم منصبوں نے افغان امن عمل ،خطے میں امن و امان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین دیرینہ تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان، خوشحال، پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے اور خطے کا امن و استحکام، افغانستان میں قیام امن کے ساتھ وابستہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان شہریوں کی سفری مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، ان کی سہولت کے لیے پاکستان نے نئی ویزا پالیسی کا اجرا کیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: ’گستاخانہ خاکوں' کا معاملہ: مسلم ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ وزیر خارجہ نے، پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے افغان ویلوسی جرگہ کے اراکین کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے بھی افغان ہم منصب کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہرایا کہ بین الافغان مذاکرات کی صورت میں افغان قیادت کے پاس قیام امن کا بہترین موقع موجود ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھانا افغان قیادت کی ذمہ داری ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مستقل امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے بین الافغان مذاکرات کا نتیجہ خیز ہونا ضروری ہے اور یقین دہانی کروائی کہ پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی مخلصانہ کاوشیں جاری رکھے گا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے افعان امن عمل سمیت خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان میں عدم استحکام کی خواہاں قوتیں دوباہ سرگرم ہوگئی ہیں، وزیر خارجہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے جو قوتیں پاکستان میں عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنا چاہتی ہیں وہ ایک دفعہ پھر متحرک ہو چکی ہیں اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے ان کے مذموم مقاصد واضع ہو چکے ہیں۔ ایک بیان جاری کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے پاس دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے جو معلومات تھیں وہ ہم نے صوبائی حکومتوں تک پہنچائیں جس پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے حفاظتی اقدامات کیے تھے اور ان خدشات سے عوام الناس کو خبردار بھی کیا تھا۔ مزید پڑھیں: کشمیر ممکنہ 'جوہری تنازع کی ابتدا' ہی نہیں بلکہ انسانیت کی بقا کا بھی مسئلہ ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چونکہ کوئٹہ میں اپوزیشن کا جلسہ تھا اس لیے جلسے میں رکاوٹ ڈالے بغیر ان کو مطلع کیا گیا، ساتھ ہی مناسب سیکیورٹی کا بھی بندوبست کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے ایک واقعے میں معصوم طلبا کو نشانہ بنایا گیا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے بڑی مشکل کے ساتھ امن و استحکام حاصل کیا تھا اور اسے بچانے کے لیے پوری قوم کو مل کر، متحد ہو کر اس عفریت کا مقابلہ کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ بیان میں شاہ محمود قریشی نے افغان وزیر خارجہ کے ساتھ ہوئے رابطے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے دوران دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ کوئٹہ اور پشاور میں ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات پر تبادلہ خیال ہوا اور اپنے خدشات کے حوالے س انہیں آگاہ کیا۔ مزید پڑھیں: بھارت، امریکا کا 'سیٹلائٹ ڈیٹا' شیئرنگ کے عسکری معاہدے پر دستخط وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ میں نے افغان وزیر خارجہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اور استحکام ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہیں ہم اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گے۔
shah-mahmood-qureshi-wSD