گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دینے کا وعدہ پورا کریں گے، وزیراعظم

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:5 Minute, 13 Second

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دینے کا وعدہ پورا کریں گے۔

گلگت بلتستان کے انتخابی عمل کے حوالے سے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جو ہم نے فیصلہ کای تھا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو عبوری صوبائی درجہ دینا تھا اور وہ اس لیے دینا تھا کہ وہاں احساس محرومی تھی، لوگ سمجھتے تھے کہ وہ پاکستان کے برابر کے شہری نہیں ہیں، میں آپ کو آج یقین دلاتا ہوں کہ ہم وہ وعدہ پورا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس حوالے سے مکمل تفصیلات عوام کو فراہم کریں گے کہ گلگت بلتستان کو کس طرح عبوری صوبائی درجہ دیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے انتہائی ٹھنڈ کے باوجود دور دراز کے علاقوں سے جوق در جوق انتخابی عمل میں شرکت کرنے والے گلگت بلتستان کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک الیکشن 2013 میں ہوا تھا اور اس کے اختتام پر ساری سیاسی جماعتوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، الیکشن جیتنے والی ن لیگ نے بھی کہا کہ سندھ میں دھاندلی ہوئی ہے اور پیپلز پارٹی نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کا الیکشن تھا اور سب جماعتوں نے الیکشن کو متنازع قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ 2013 کے الیکشن میں 133 لوگوں نے کہا کہ الیکشن میں بے ضابطگیاں یا دھاندلی ہوئی اور ان میں سے تحریک انصاف نے کہا کہ 4 قومی اسمبلی کے حلقوں کو کھول دیں حالانکہ ان چار حلقوں سے حکومت تو نہیں بننے لگے تھی نہی ہم اقتدار میں آنے لگے تھے، یہ ہم نے اس لیے کہا کہ ان چاروں حلقوں کے آڈٹ کے ذریعے پتہ چل جائے گا کہ الیکشن میں کیا ہوا ہے اور جب یہ پتہ چل جائے گا کہ تو 2018 کے انتخابات میں آپ خامیاں دور کر کے اگلا الیکشن ٹھیک ہو۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے چار حلقے کھولنے کا اس لیے کہا تھا تاکہ 2018 کا الیکشن ٹھیک ہو اور اس کے لیے ایک سال تک میں پارلیمنٹ اور الیکشن میں گیا،، چار حلقے ہم الیکشن ٹریبونل میں لے کر گئے، قانون یہ تھا کہ چار مہینے میں فیصہ ہو گا تو ہم سپریم کورٹ میں گئے ، تمام قانونی فورمز پر اہم نے دستک دی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ایک سال تک حخومت چار حلقے کھولنے کے لیے تیار نہ ہوئی تو ہم نے احتجاج شروع کیا اور 126دن اسلام آباد میں دھرنا دیا، یہ درھرنا ہم نے اس لیے دیا تاکہ انتخابی عمل ٹھیک ہو۔

انہوں نے کہا کہ جب دھرنا ہوا تو ایک جوڈیشل کمیشن بیٹھا، اس کی سربراہی سپریم کورٹ کے جج ناصر الملک نے کی، کئی ہفتے معاملہ چلا، ہم نے ثبوت جمع کیے اور بے ضابطگیوں کے ثبوت سپریم کورٹ لے کر گئے جس پر جوڈیشل کمیشن نے کئی تجاویز دیں کہ ان چیزوں پر عمل کریں تاکہ الگا الیکشن ٹھیک ہو۔

انہوں نے کہا کہ صاف اور شفاف الیکشن کی مہم میں نے چلائی تھی، میرا مقصد تھا کہ جب پاکستان میں الیکشنز ہوں تو جو ہارے وہ بھی مان جائے کہ ہم ہار گئے ہیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ 1970 کے الیکشن میں جو ہارے تھے انہوں نے اپنی شکست تسلیم کی تھی، اس کے بعد پاکستان کے سارے الیکشنز میں جو ہارتا تھا وہ کہتا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی۔

انہوں نے اپنے کرکٹ کے دور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب میں کپتان بنا تو اپنے اپنے کپتان ہوتے تھے، جس ملک میں آپ جا کر میچ کھیلتے تھے وہ اپنے امپائر کھڑے کرتے تھے، تب بھی یہی ہوتا تھا اور جب کوئی کسی دوسرے ملک میں جا کر ہارتا تھا تو عموماً یہ کہتا تھا کہ امپائر دوسری ٹیم کے ساتھ مل گئے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہندوستان پاکستان میچ ہمیشہ جب کھیلا جاتا تھا تو نہ پاکستان ہندوستان میں جیت سکتا تھا، نہ ہندوستان پاکستان میں جیت سکتا تھا اور جب بھی میچ ختم ہوتا تو کہا جاتا کہ امپائروں نے ہرا دیا۔

‘میں بڑے فخر سے کہتا ہوں کہ میں واحد کپتان تھا جس نے ہندوستان میں جا کر ان کے امپائروں کے ساتھ میچ جیت کر آیا تھا’۔

1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ میں نے بحیثیت کپتان نیوٹرل امپائر کے لیے مہم چلائی اور پاکستان کرکٹ کی 100 سالہ تاریخ میں پہلا ملک تھا جس نے اپنے ملک میں نیوٹرل امپائر کھڑے کیے اور پھر ہندوستان یہاں پاکستان میں نیوٹرل امپائرز کے ساتھ پہلی دفعہ میچ کھیلے۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ میری وجہ سے کرکٹ میں نیوٹرل امپائرز آئے اور میری کوشش ہے کہ پاکستان میں بھی اس طرح کے الیکشن ہوں کہ جو بھی ہارے وہ تسلیم کرے جس طرح آج کرکٹ کی دنیا میں جو ہارتا ہے وہ تسلیم کرتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ 2013 کے الیکشن میں 133 افراد نے پٹیشن دائر کی کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے جبکہ 2018 کے الیکشن میں صرف 102 پٹیشن دیں، اس کا مطلب ہے کہ 2018 میں کم لوگوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔

انہوں نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں ن لیگ کی دھاندلی کی 15، پیپلز پارٹی کی 9 جبکہ تحریک انصاف کی 23 پٹیشنز تھیں، عینی دونوں کی ملا کر 2018 میں 24 پٹیشنز تھیں اور اکیلے تحریک انصاف کی 23 پٹیشنز تھیں۔

اب کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی 14 نشستیں 3 ہزار سے کم ووٹ کے فرق سے ہاریں، پیپلز پارٹی نے صرف تین نشستیں ایسی ہاریں جن میں ووٹس کا فرق تین ہزار سے کم تھا جبکہ (ن) لیگ نے 9 سیٹیں ہاریں، تو اگر ہم نے دھاندلی کی تھی تو یہ کیسے ہو گیا، سب سے زیادہ تو ہمیں شور مچانا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2013 میں الیکشن کمیشن، عبوری حکومت، پولنگ اسٹاف ان کا تھا، 2018 کے انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر ان کا، ساری الیکشن کمیشن ان دونوں نے منتخب کی تھی، عبوری حکومت ان دونوں نے منتخب کی تھی، پنجاب اور سندھ کا سارا پولنگ عملہ وہ دونؤں جماعتوں کا تھا اور یہ اقتدار میں تھیں، تو دھاندلی کا تو ہمیں کہنا چاہیے تھا کیونکہ پٹیشن ہماری زیادہ تھیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ہوائی لباس جو آپ کو 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے اڑا سکتا ہے

لائپزگ، جرمنی: اب بی ایم ڈبلیو کمپنی نے ایک برقی وِنگ سوٹ تیار کیا ہے جسے پہن کر 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زبردست رفتار سے پرواز کی جاسکتی ہے۔ اسے ڈیزائن ورکس اور مشہور اسکائی ڈائیرور پیٹر سیلزمان کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے لیے بی ایم […]
SUIT-wSD