کراچی پہنچنے والی کے سی آر کی کوچز میں کیا سہولیات موجود ہیں؟

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:3 Minute, 18 Second

کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کوچز، جنہیں اسلام آباد کی کمبائنڈ فریٹ انٹرنیشنل (سی ایف آئی) کیرج فیکٹری میں تیار کیا جارہا تھا، انہیں پیر کو کراچی میں سٹی ریلوے اسٹیشن پہنچادیا گیا۔

سوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 11 سفید اور نیلے رنگ کی کوچز پر سبز اور لال رنگ کی دھاریاں بنائی گئی ہیں جو اسے پاکستان ریلویز کی انٹرسٹی سبز ٹرینوں سے مکمل طور پر مختلف بنارہی ہے، ان کوچز کے ساتھ ہی دو مماثلت رکھنے والے لوکوموٹوز (انجنر) بھی پہنچائے گئے ہیں، یہ لوکوموٹوز جنرل موٹرز یونیورسل-15 (جی ایم یو-15) سیریز 48 کے حصے ہیں۔

اس حوالے سے سٹی ریلوے اسٹیشن کے سپرنٹنڈنٹ عبداللہ نے ڈان کو بتایا کہ لوکوموٹوز کو ٹرین کے دونوں سروں سے جوڑا جائے گا جو ٹرین کو دونوں سمتوں پر بڑھنے میں پر مدد دیں گے۔

تمام کوچز کا اندرونی حصہ سفید رنگ کا ہے جس میں مسافروں کے بیٹھنے کے لیے سنگل کے ساتھ ساتھ تین سیٹوں کا آپشن بھی موجود ہے جبکہ کوچز کے دروازے اور نشستیں نیلے رنگ کے ہیں۔

ائیر-کنڈیشنر موجود نہیں

اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ‘کوچز میں دونوں طرف بڑی ہوا دار کھڑکیاں موجود ہیں جبکہ اس میں ایئر-کنڈیشنڈ کی سہولت موجود نہیں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ پیر کے روز جب کوچز راولپنڈی سے یہاں پہنچیں اور انہیں باقاعدہ سٹی اسٹیشن کے حوالے کیا گیا تو انہیں اس تاریخی لمحے کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے پر فخر محسوس ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ہر کوچ میں 100 مسافروں کے لیے گنجائش موجود ہے جن میں سے 64 مسافر بیٹھ کر جبکہ 36 مسافر کھڑے ہوکر سفر کرسکیں گے اور ان مسافروں کے پکڑنے کے لیے ہینڈل بھی موجود ہیں۔

کے سی آر منصوبے کے پہلے مرحلے میں ٹرین آپریشن 19 نومبر(جمعرات) سے شروع کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں 4 ٹرینیں 60 کلومیٹر کے فاصلے پر پیپری سے اورنگی اسٹیشنز تک اپ اور ڈاؤن سمت میں چلائی جائیں گی۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ 8 ٹرینیں ہوں گی جن میں سے 4 اورنگی اور 4 پیپری سے صبح سے سہ پہر تک چلائی جائیں گی اور اس سے مسافر پیپری اور اورنگی اسٹیشنز کے درمیان 3 گھنٹوں کے فرق سے سفر کرسکیں گے۔

Pakistan Railways to partially resume KCR service from Nov 19 - Pakistan -  Dunya News

## سفر کا کرایہ 50 روپے

اورنگی سے روزانہ پہلی ٹرین صبح 7 بجے نکلے گی جس کے بعد 10 بجے، ایک بجے اور 4 بجے ٹرینیں اسٹیشن سے نکلا کریں گی جبکہ پیپری اسٹیشن سے بھی ٹرینوں کی روانگی اسی طرح ہوگی۔

فی سفر کا کرایہ 50 روپے رکھا گیا ہے۔

کے سی آر کی نئی کوچز کے سٹی اسٹیشن پہنچنے کے فوراً بعد ہی انہیں اسٹیشن کی واشنگ لائن پر لے جایا گیا۔

سپرنٹنڈنٹ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ‘یہ کوچز نئی ضرور ہوسکتی ہیں مگر یہ راولپنڈی سے سفر کرکے یہاں تک پہنچی ہیں، (لہٰذا) ہمیں انہیں صاف کرنے کی ضرورت ہے اور جمعرات سے پہلے انہیں چمکانا ہے’۔

انہوں نے مزید واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ‘بنیادی طور پر، تمام ٹرینوں کو پہنچنے کے فوراً بعد ہی اور اگلی روانگی سے قبل ہی واشنگ لائن پر بھیج دیا گیا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کے سی آر ٹرینوں میں سیکیورٹی کے معاملات ریلوے پولیس دیکھے گی، ساتھ ہی کانسٹیبل نے کہا کہ انہوں نے کبھی مقامی ٹرین سے سفر نہیں کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بہت جوان تھے جب یہاں مقامی ٹرینیں چلنا بند ہوگئی تھیں لیکن میں نے ان کے بارے میں اپنے والد اور دادا سے سنا ہے وہ دونوں ریلوے پولیس میں تھے، وہ شہر میں کہیں بھی جانے کے لیے مقامی ٹرینوں میں سفر کرتے تھے، اس کے علاوہ آمدورفت کا ذریعہ سائیکل تھا، انہوں نے کبھی بس، ٹیکسی اور رکشے سے سفر نہیں کیا تھا اگرچہ بعد میں، میں نے آمدورفت کے لیے انہیں ذرائع کو استعمال کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کے سی آر کو دوبارہ بحال ہوتا دیکھ کر اسی طرح پرجوش ہیں جس طرح شہر کا کوئی بھی دوسرا شہری ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کنگز کو لگ گئے وِنگز، کراچی چیمپیئن بن گیا

جب 2016ء میں پہلی بار پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا انعقاد ہوا تھا، تو پاکستان کے شائقین کی اکثریت یہی چاہتی تھی کہ فائنل میں کراچی اور لاہور کا مقابلہ ہوجائے۔ کیونکہ ان دونوں شہروں میں ہمیشہ مقابلہ رہتا ہے، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا مقابلہ کہ […]
psl-5-champion-time-wSD