اسرائیلی وزیر اعظم کا سعودی عرب کا دورہ، ولی عہد سے ملاقات

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:2 Minute, 15 Second

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کے لیے سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق یہ سینئر اسرائیلی اور سعودی عہدیداروں کے درمیان پہلا آمنا سامنا ہوگا۔

عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ نے ایک نامعلوم اسرائیلی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ یوسی کوہن کے ہمراہ اتوار کے روز سعودی شہر نیوم کے لیے روانہ ہوئے جہاں انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی جہاں ولی عہد امریکا کے سکریٹری خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کے لیے وہاں موجود تھے۔

ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 ڈاٹ کام کے ڈیٹا کے مطابق تل ابیب کے قریب بین گوریئن بین الاقوامی ایئرپورٹ سے گلف اسٹریم IV نجی جیٹ طیارے نے 5 بجکر 40 منٹ جی ایم ٹی پرواز بھری۔

ڈیٹا کے مطابق یہ پرواز جزیرہ نما سینا کے مشرقی کنارے سے ہوتے ہوئے جنوب کی طرف نیوم میں 6 بجکر 30 منٹ پر اتری۔ طیارے نے 9 بجکر 50 منٹ پر نیوم سے واپس اڑان بھری اور اسی راستے کو اپناتے ہوئے تل ابیب پہنچی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس بارے میں رائے طلب کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

مائیک پومپیو نے مشرق وسطٰی کے سفر کے دوران ایک امریکی پریس کے وفد کے ساتھ سفر کیا تاہم جب وہ ولی عہد سے ملاقات کے لیے گئے تو وفد کو نیوم ایئر پورٹ پر ہی چھوڑ دیا تھا۔

جہاں بحرین، سوڈان اور متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ انتظامیہ کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے معاہدے کیے ہیں وہیں سعودی عرب نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا تھا۔

سعودی فرمانروا شاہ سلمان طویل عرصے سے فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے حصول کی کوششوں میں ان کی حمایت کرتے آئے ہیں تاہم تجزیہ کاروں اور اندرونی ذرائع کا ماننا ہے کہ ان کا 35 سالہ بیٹا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ممکنہ طور پر امن عمل میں کسی بڑی پیشرفت کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے کے خیال کے بارے میں زیادہ کھلے ہیں۔

ریاست نے متحدہ عرب امارات جانے کے لیے اسرائیلی پروازوں کو سعودی فضائی حدود کے استعمال کی منظوری دی تھی

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کی تھی۔

بحرین کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے کم از کم سعودی عرب کے بھی نظریے کا معلوم ہوتا کیونکہ جزیرے نما ریاست بحرین ریاض پر انحصار کرتی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

اوگرا کا گیس میٹر ٹیسٹنگ کیلئے تھرڈ پارٹی سے رجوع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: گیس یوٹیلیٹی کمپنیوں کی جانب سے مقررہ قیمت اور میٹرز کے کرائے میں بالترتیب 123 فیصد اور 100 فیصد تک اضافے کے مطالبہ کے درمیان آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے خود گیس کمپنیوں کے بجائے آزاد تھرڈ پارٹی کے ذریعے گیس میٹروں کی جانچ کرنے کا […]
ogra-wSD