بدعنوانی کے مقدمات میں ضمانتیں قانونی اختتام نہیں، چیئرمین نیب

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:3 Minute, 19 Second

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کرپشن کیسز میں ضمانتیں قانونی انجام اختتام ہے۔

اندرونی ذرائع نے ڈان کو بتایا چیئرمین نیب نے انسداد بدعنوان ادارے کی 2 سال کی کارکردگی کاجائزہ لینے کے دوران لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کی سپریم کورٹ سے ضمانت پر بات کرتے ہوئے نیب حکام سے کہا کہ وائٹ کالر کرائم کیسز کو عدالتوں میں بھرپور طریقے سے پیش کریں کیونکہ ’ضمانت کیس کا قانونی اختتام نہیں ہے’۔

سوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے قریبی سمجھے جانے والے احد چیمہ اور شریک ملزم شاہد شفیق کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل سے متعلق کیس میں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

نیب کے سربراہ نے یہ انکشاف کیا کہ بیورو اپنے تمام علاقائی ہیڈکواٹرز میں ‘ریسرچ ایسوسی ایٹس’ (قانونی ماہرین) تعینات کرنے جارہا ہے جو عدالتوں میں مقدمات لڑنے میں استغاثہ کی مدد کریں گے۔

بعدازاں انہوں نے اجلاس میں یہ بتایا کہ نیب نے گذشتہ 2 برسوں کے دوران مختلف احتساب عدالتوں میں 332 کرپشن ریفرنسز دائر کیے، اجلاس کو بتایا گیا کہ بیورو کے دائر کردہ 332 کرپشن ریفرنسز میں سے 270 کی انویسٹی گیشن مکمل کی جاچکی ہیں۔

مزید یہ کہ انسداد بدعنوان ادارے کو گزشتہ 2 برسوں میں 75 ہزار 268 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 66 ہزار 838 درخواستوں کو نمٹا دیا گیا تھا، اسی طرح 2 ہزار 417 شکایتوں پر کارروائی کا آغاز کیا گیا جن میں سے 2 ہزار 36 کو حتمی شکل دی گئی۔

اسی عرصے میں بیورو نے ایک ہزار 240 پر انکوائریز کی منظوری دی جبکہ ایک ہزار 220 پر کارروائی کو مکمل کیا گیا، مزید یہ کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران 432 انویسٹی گیشنز کی بھی منظوری دی گئی جس میں سے 415 کو مکمل کیا گیا۔

جاوید اقبال نے بیورو کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے مقدمات کو قانون کے مطابق ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں لگائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘نیب گزشتہ 2 برسوں میں بدعنوان عناصر سے بلواسطہ یا بلاواسطہ 3 کھرب 63 ارب روپے وصول کرنے میں کامیاب رہا اور وصول کردہ رقم قومی خزانے میں جمع کرائی گئی۔

چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھا کہ آگاہی، روک تھام اور نفاذ سے متعلق پالیسی کے حوصلہ افزا نتائج پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ‘نیب ایک موثر انسداد بدعنوان ادارے کے طور پر ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کر رہا ہے‘۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب سرکاری فنڈز کے غلط استعمال، کرپشن، اختیارات کا غلط استعمال، منی لانڈرنگ اور لوگوں کو دھوکا دینے کے بڑے کیسز پر توجہ دے رہا ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا تھا کہ مانیٹرنگ اور تشخیص کے نظام کی وجہ سے نیب کی مجموعی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب افسران کی اجتماعی دانشمندی کو ملزمان کے خلاف ٹھوس ثبوتوں کے بعد شکایتوں کی تصدیق، انکوائریز اور انویسٹی گیشن اور کیس کو حتمی مراحل تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جارہا۔

چیئرمین نیب کے مطابق یہ شفاف اور آزادانہ فیصلہ سازی جو کیس کے قانونی پہلوؤں کی روشنی میں ہوں ،اس کے لیے نیب کے ایگزیکٹو اور ریجنل بورڈز تشکل دیے گئے ہیں۔

انسداد بدعنوان ادارے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کرپشن کا خاتمہ، لوٹی ہوئی رقم کی واپسی اور لوگوں کی لوٹی ہوئی رقم کو واپس کرنا نیب کی اولین ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کی آگاہی اور روک تھام کی پالیسی کو معروف بین الاقوامی اداروں خصوصاً ورلڈ اکانومک فارم اور ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل پاکستان نے سراہا جو کہ بیورو کے لیے باعث اعزاز تھا۔

علاوہ ازیں جسٹس (ر) جاوید اقبال نے متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق شکایت کی تصدیق، انکوائریز اور انویسٹی گیشنز کرنے کی ہدایت کی تاکہ لوٹی ہوئی دولت کو واپس حاصل کرکے اور اسے قومی خزانے میں جمع کریا جاسکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

'کورونا ویکسین کے باوجود عالمی وبا کے معاشی نقصانات جلد ختم نہیں ہوں گے'

اسلام آباد: کورونا وبا کے خاتمے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اعتماد کے باوجود اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی سے متعلق کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی) کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس ویکسین معاشی نقصان روک نہیں سکے گا۔ سوہنی […]
vaccine-wSD