جلسہ چاہے اسٹیڈیم میں ہو یا کسی سڑک پر لیکن ہوگا ضرور، مریم نواز

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:5 Minute, 28 Second

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ملتان میں جلسہ چاہے اسٹیڈیم میں ہو، اس کے باہر یا کسی سڑک پر لیکن جلسہ ہوکر رہے گا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ یہ حکومت اپنی آخری سانسوں پر ہے، انہیں اپنا گھر جانا نظر آرہا ہے۔

لاہور میں جاتی امرا سے ملتان جلسے کے لیے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت میرے والد اور خاندان یہاں موجود نہیں ہیں اور لوگ دادی کے انتقال پر تعزیت کے لیے آرہے ہیں تو شاید میں اپنی سرگرمیاں ایک 2 دن ملتوی کردی اور ملتان جلسے میں نہ جاتی لیکن جس طرح انہوں نے غنڈہ کردی کا مظاہرہ کیا اور پرامن کارکنان پر تشدد کرکے انہیں گرفتار کیا وہ ظلم مجھے آج کھینچ کر ملتان لے جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راستے میں جتنی گرفتاریاں اور ناکے لگے ہوئے ہیں وہ سب ان کے خوف کے عکاس ہیں اور اب یہ جلسہ چاہے اسٹیڈیم کے اندر ہو یا باہر ہو یا ملتان کی کسی سڑک پر ہو لیکن جلسہ تو ہوگا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ جلسہ اپنے ہونے سے پہلے کامیاب ہوچکا ہے کیونکہ حکومت کی جو حالت نظر آرہی ہے انہیں اپنا خاتمہ نظر آرہا ہے۔

ملتان کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک پر ایک مشکل دور آیا ہوا ہے، نالائقوں اور نااہلوں کی حکومت مسلط ہے لہٰذا اس کے لیے جدوجہد کرنا پڑے گی، میری ملتان کے شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ باہر آئیں اور حکومت کے خلاف آخری دکھے میں شامل ہوں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ سنا ہے جب گھروں پر مشکلات آتی ہیں تو گھروں کی بیٹیاں باہر نکلتی ہیں اور جب قوم اور پاکستان پر مشکل آئی ہے تو میں نے سنا ہے آصفہ بھٹو آرہی ہیں کیونکہ بلاول کو کورونا ہے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ جب ملک اور قوم پر مشکل آئی تو پاکستان کی بیٹیاں آصف بھٹو اور مریم نواز اپنی قوم کے لیے باہر نکلیں گی۔

ساتھ ہی لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ یہ حکومت اپنی آخری سانسوں پر ہے، انہیں اپنا گھر جانا نظر آرہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حکومت گھر جارہی ہے اور جدوجہد کے آخری چند دن ہیں اور پوری قوم اس میں شامل ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) آج ملتان میں پاور شو کرنے جارہی ہے تاہم حکومتی اجازت نہ ہونے کے باعث جلسہ گاہ کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں جبکہ پی ڈی ایم جماعتوں کے کارکنان کی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے۔

ملتان جلسے کے لیے اپوزیشن اتحاد نے قلعہ کہنہ قاسم باغ کا انتخاب کیا تھا اور اس سلسلے میں جلسےسے 2 روز قبل وہاں دھاوا بول کر انتظامی رکاوٹیں ہٹا دی تھیں تاہم انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جلسہ گاہ کو خالی کروا لیا تھا اور کئی گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں۔

آج کے جلسے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری بھی شریک ہورہی ہیں جو ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہے۔

یہ مدنظر رہے کہ حکومت کی جانب سے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر جلسے اور جلوسوں پر پابندی لگائی گئی تھی تاہم اس کے باوجود پی ڈی ایم نے بغیر اجازت کے پشاور کا جلسہ کیا تھا اور اب مزید 2 جلسے کرنے کےلیے تیار ہے۔

تاہم حکومت کی جانب سے یہ خبردار کیا جاچکا ہے کہ جلسے کے منتظمین اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ راستے میں جتنی گرفتاریاں اور ناکے لگے ہوئے ہیں وہ سب ان کے خوف کے عکاس ہیں اور اب یہ جلسہ چاہے اسٹیڈیم کے اندر ہو یا باہر ہو یا ملتان کی کسی سڑک پر ہو لیکن جلسہ تو ہوگا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ جلسہ اپنے ہونے سے پہلے کامیاب ہوچکا ہے کیونکہ حکومت کی جو حالت نظر آرہی ہے انہیں اپنا خاتمہ نظر آرہا ہے۔

ملتان کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک پر ایک مشکل دور آیا ہوا ہے، نالائقوں اور نااہلوں کی حکومت مسلط ہے لہٰذا اس کے لیے جدوجہد کرنا پڑے گی، میری ملتان کے شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ باہر آئیں اور حکومت کے خلاف آخری دکھے میں شامل ہوں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ سنا ہے جب گھروں پر مشکلات آتی ہیں تو گھروں کی بیٹیاں باہر نکلتی ہیں اور جب قوم اور پاکستان پر مشکل آئی ہے تو میں نے سنا ہے آصفہ بھٹو آرہی ہیں کیونکہ بلاول کو کورونا ہے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ جب ملک اور قوم پر مشکل آئی تو پاکستان کی بیٹیاں آصف بھٹو اور مریم نواز اپنی قوم کے لیے باہر نکلیں گی۔

ساتھ ہی لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ یہ حکومت اپنی آخری سانسوں پر ہے، انہیں اپنا گھر جانا نظر آرہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حکومت گھر جارہی ہے اور جدوجہد کے آخری چند دن ہیں اور پوری قوم اس میں شامل ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) آج ملتان میں پاور شو کرنے جارہی ہے تاہم حکومتی اجازت نہ ہونے کے باعث جلسہ گاہ کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں جبکہ پی ڈی ایم جماعتوں کے کارکنان کی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے۔

ملتان جلسے کے لیے اپوزیشن اتحاد نے قلعہ کہنہ قاسم باغ کا انتخاب کیا تھا اور اس سلسلے میں جلسےسے 2 روز قبل وہاں دھاوا بول کر انتظامی رکاوٹیں ہٹا دی تھیں تاہم انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جلسہ گاہ کو خالی کروا لیا تھا اور کئی گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں۔

آج کے جلسے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری بھی شریک ہورہی ہیں جو ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہے۔

یہ مدنظر رہے کہ حکومت کی جانب سے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر جلسے اور جلوسوں پر پابندی لگائی گئی تھی تاہم اس کے باوجود پی ڈی ایم نے بغیر اجازت کے پشاور کا جلسہ کیا تھا اور اب مزید 2 جلسے کرنے کےلیے تیار ہے۔

تاہم حکومت کی جانب سے یہ خبردار کیا جاچکا ہے کہ جلسے کے منتظمین اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ملتان جلسہ: قاسم باغ اور بیشتر راستے بند، اپوزیشن کارکنان کی پکڑ دھکڑ جاری

پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر میں تیزی کے ساتھ ہی سیاسی ماحول بھی گرم ہوگیا ہے اور حکومت اور اپوزیشن ملتان جلسے پر ایک دوسرے کے سامنے ڈٹ گئی ہیں۔ حکومت نے کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو […]
jalsa-wSD