ملتان جلسہ: قاسم باغ اور بیشتر راستے بند، اپوزیشن کارکنان کی پکڑ دھکڑ جاری

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:6 Minute, 25 Second

پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر میں تیزی کے ساتھ ہی سیاسی ماحول بھی گرم ہوگیا ہے اور حکومت اور اپوزیشن ملتان جلسے پر ایک دوسرے کے سامنے ڈٹ گئی ہیں۔

حکومت نے کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم میں جلسے کی اجازت نہیں دی ہے تو وہیں پی ڈی ایم جماعتیں ہر حال میں جلسے کرنے پر بضد ہیں اور انہوں نے واضح کیا ہے چاہے اسٹیڈیم میں ہو یا کسی سڑک پر لیکن ملتان میں جلسہ ہوگا جبکہ متعدد اپوزشین کو روکنے کے لیے متعدد کارکنان کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

آج کے جلسے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو بھی شریک ہوں گی جسے ان کے سیاسی کیریئر کا آغاز سمجھا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اب تک گوجرانوالہ، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں جلسے کرچکی ہے جبکہ آج 30 نومبر کو ملتان میں جلسے کے لیے تیار ہے۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر جلسے اور جلوسوں پر پابندی لگائی گئی ہے تاہم اس کے باوجود پی ڈی ایم نے بغیر اجازت کے پشاور کا جلسہ کیا تھا اور آج کا بھی جلسہ کرنے جارہی ہے۔

جلسہ گاہ پر انتظامیہ کا کنٹرول، راستے بند

جلسے سے قبل ہی انتظامیہ کی جانب سے حکومت رٹ قائم کرنے کے لیے قلعہ کہنہ قاسم باغ کا کنٹرول سنبھال لیا گیا ہے اور اسٹیڈیم کے اطراف کنٹینرز لگا کر راستے بند کردیے گئے ہیں۔

اسی طرح ملتان میں گھنٹہ گھر چوک کے راستوں کو بھی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا ہے جبکہ وہاں پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے، مزید یہ کہ گیلانی ہاؤس کو جانے والے راستوں پر بھی رکاوٹیں لگائی گئی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ملتان شہر کے تمام داخلی راستوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے وہی خواتین رہنماؤں سمیت سیاسی خواتین کارکنان کی موجودگی کے پیش نظر خواتین پولیس کی بھی بڑی تعداد گھنٹہ گھر چوک پر موجود ہے۔

گھنٹہ گھر چوک پر تعینات پولیس اہلکاروں کے پاس آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں بھی موجود ہیں۔

شہر میں میٹرو اور اسپیڈو بس سروس کو بھی معطل کیا گیا ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس کو بھی معطل کیا گیا ہے جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اس حوالے سے انتظامیہ کا کہنا تھا کہ شام تک موبائل سروس کو دوبارہ بحال کردیا جائے گا۔

اپوزیشن کی تیاری

وہی دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے تیار ہے اور ان کے کارکنان کی ملتان آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے جیالوں کو گیلانی ہاؤس پہنچنے کی ہدایت کی ہے جبکہ آصفہ بھٹو زرداری بھی گیلانی ہاؤس سے ریلی کی صورت میں جلسہ گاہ روانہ ہوں گی۔

اسی طرح پی ڈی ایم کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرھإیں بھی جامعہ قاسم العلوم سے جلسہ گاہ روانہ ہوں گے۔

مزید یہ کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا استقبال چنگی نمبر 9 پر کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کے کارکنان نے گیلانی ہاؤس سے نشتر ہسپتال کی طرف آنے والے راستے پر لگے کنٹینر کو ہٹا دیا، اس موقع پر پی پی کارکنان کے ہمراہ علی موسیٰ گیلانی بھی موجود تھے۔

جلسہ ہر حال میں ہوگا، علی موسیٰ گیلانی

علی موسیٰ گیلانی نے سوہنی دھرتی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جلسہ اور ریلی ہر ہال میں ہوگی۔

موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کے مہمان سندھ سے آرہے ہیں ہم ان پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ میرا بھائی قاسم گرفتار ہے، ہم احتجاج کر سکتے تھے اس کے باوجود ہم پر امن ہیں۔

دوران گفتگو ان کا کہنا تھا کہ نیازی حکومت رات کے اندھیرے میں وار کرتی ہے جبکہ صبح میں ان لوگوں نے کنٹینر لگا دیے جسے ابھی ہم ہٹا کر آرہے ہیں۔

پی ڈی ایم کارکنان کی پکڑ دھکڑ

قبل ازیں ملتان میں اپوزیشن کے جلسے کو روکنے کے لیے پی ڈی ایم میں شامل بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی پکڑ دھکڑ کی اطلاعات سامنے آئیں۔

سوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع خاص طور پر جنوبی بیلٹ میں پولیس کی جانب سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور متحرک کارکنان کے گھروں پر چھاپا مارنے اور انہیں حراست میں لینے اطلاعات موصول ہوئیں۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے میڈیا کے ساتھ کچھ ڈپٹی کمشنرز کے حکم شیئرز کیے کہ پی ڈی ایم کے 2 بڑے حلقوں کی متحرک شخصیات کو 7 دن کے لیے سلاخوں کے پیچھے ڈالیں۔

اس بارے میں پیپلزپارٹی پنجاب کے صر قمر زمان کائرہ نے کہا تھا کہ ملتان سے دور دراز اضلاع گجرات اور منڈی بہاالدین سے بھی پارٹی ورکرز کو اٹھایا گیا جبکہ بہاولپور، ملتانا ور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں آنے والے اضلاع میں بھی کارروائیاں تیز کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے عہدیداروں کو نظر بند کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس نے فہرست کے ساتھ ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد، جھنگ، اوکاڑہ، پاک پتن اور ساہیوال میں بھی کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے۔

وہی مسلم لیگ (ں) نے بھی ان کارکنان کی فہرست شہئر کی جنہیں یا تو حراست میں لیا گیا یا نظر بند کردیا گیا۔

ان کے بقول ان افراد میں موجودہ اراکین صوبائی اسمبلی جیسے طلال چوہدری، عائشہ رجب، نوید کاشف، ثاقب خورشید اور چوہدری یوسف جبکہ سابق ایم پی ایز تہمینہ دولتانہ، اجینئر بلال کھر بھی شامل تھے۔

علاوہ ازیں پولیس نے کوٹ سبزل (پنجاب-سندھ سرحد) پر کئی گاڑیوں کو نیشنل ہائی وے پر روکا اور انہیں اپوزیشن ورکرز خاص طور پر پیپلزپارٹی کے سندھ سے آنے والے ان کارکنان کو روکنے کے لیے استعمال کیا جو ملتان میں پارٹی کے یوم تاسیس میں شرکت کے لیے آرہے تھے۔

وہیں ضلعی انتظامیہ نے مختلف اضلاع سے ملتان آنے والے داخلی راستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کیں اور مظفر گڑھ ملتان روڈ کو کنٹینر لگا کر بند کردیا تاکہ لوگوں کو پی ڈیم ایم جلسے میں شرکت سے روکا جائے۔

اسی طرح چوہدری عامر کرامت اور بلال کھر سمیت مسلم لیگ (ن) کے درجن بھر مقامی رہنماؤں کو بھی 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا۔

پی ڈی ایم کیا ہے؟

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، 20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تشکیل پانے والا 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو رواں ماہ سے شروع ہونے والے ’ایکشن پلان‘ کے تحت 3 مرحلے پر حکومت مخالف تحریک چلانے کے ذریعے حکومت کا اقتدار ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔

ایکشن پلان کے تحت پی ڈی ایم نے رواں ماہ سے ملک گیر عوامی جلسوں، احتجاجی مظاہروں، دسمبر میں ریلیوں اور جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف ایک ’فیصلہ کن لانگ مارچ‘ کرنا ہے۔

مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے پہلے صدر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف سینئر نائب صدر ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی اس کے سیکریٹری جنرل ہیں۔

اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اس اتحاد میں بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں، تاہم جماعت اسلامی اس اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

آئل کمپنیز اور ڈیلرز کے مارجن میں 16فیصد تک اضافہ متوقع

اسلام آباد: تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے گزشتہ سال کیے گئے وعدے کے برعکس مارکیٹ اسٹڈی کے بغیر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) اور ڈیلرز کمیشن کے منافع کے مارجن میں 16 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے۔ سوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق […]
pump-wSD