ملک میں کورونا کیسز مثبت آنے کی مجموعی شرح میں کمی، میر پور میں 20 فیصد سے متجاوز

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:2 Minute, 24 Second

ملک بھر میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح مجموعی طور پر کم ہونے کے بعد 6 فیصد ہوگئی ہے اس کے باوجود سب سے بلند شرح آزاد کشمیر کے شہر میر پور میں 20.62 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس کے بعد پشاور میں کیسز کے مثبت آنے کی شرح دوسرے نمبر پر یعنی 19.58 جبکہ حیدرآباد میں 19.03 فیصد ہے۔

صوبوں اور وفاقی زیر انتظام علاقوں میں کووِڈ 19 کا ٹیسٹ مثبت آنے کی سب سے بلند مجموعی شرح آزاد کشمیر میں 14.5 فیصد ہے جس کے بعد سندھ میں یہ شرح 10.1 فیصد، بلوچستان میں 9.4 فیصد، اسلام آباد میں 4.3 فیصد، خیبرپختونخوا میں 3.8 فیصد جبکہ پنجاب میں 3.5 فیصد اور گلگت بلتستان میں سب سے کم یعنی 2.9 فیصد ہے۔

این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں اس وقت کورونا وائرس کے 2 ہزار 165 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ گزشتہ ہفتے یہ تعداد 2 ہزار 112 تھی۔

کورونا وائرس کے سب سے زیادہ تشویشناک مریض سندھ میں ہیں جن کی تعداد 696 ہے، فورم نے خبردار کیا کہ ملک میں تشویشناک مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

خیبرپختونخوا میں 470، پنجاب میں 467، اسلام آباد میں 323، آزاد کشمیر میں 28، بلوچستان میں 17 جبکہ گلگت بلتستان میں کووِڈ 19 کے 3 مریض ایسے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے۔

صوبوں کے لحاظ سے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح کچھ یوں ہے:

پنجاب

  • لاہور 3.19 فیصد
  • راولپنڈی 9.27 فیصد
  • ملتان 10.66 فیصد
  • گوجرانوالہ 0.38 فیصد

سندھ

  • کراچی 13.86 فیصد
  • حیدرآباد 19.03 فیصد

خیبرپختونخوا

  • پشاور 19.58 فیصد
  • ایبٹ آباد 11.21 فیصد

بلوچستان

  • کوئٹہ 10.76 فیصد

وفاقی دارالحکومت

  • اسلام آباد 4.32 فیصد

آزاد کشمیر

  • میر پور 20.62 فیصد
  • مظفرآباد 4.13 فیصد

گلگت بلتستان

  • گلگت 4.62 فیصد

آر اے ٹی ٹیسٹنگ

این سی او سی کے اجلاس میں ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹنگ سے متعلق پالیسی پر بھی بریفنگ دی گئی، ماہرین کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات سے مطابق رکھنے والی آر اے ٹی ٹیسٹنگ شروع رنے کے لیے قومی پالیسی تیار کی جارہی ہے۔

قومی ادارہ برائے صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ تمام صوبوں، علاقوں کے حکام کو ‘قومی معیار کے مطابق اینٹیجن ٹیسٹنگ کرنے کے لیے ایک متفقہ حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے اعتماد میں لیا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پالیسی کے تحت آغاز میں حکومت کی مجاز سرکاری لیبارٹریز کو آر اے ٹی ٹیسٹس کی اجازت ہوگی۔

مزید برآں یہ صوبائی حکومتوں پر منحصر ہوگا کہ وہ نجی لیبارٹریز کو آر اے ٹی ٹیسٹ کرنے کی اجازت دیں اور صرف پی سی آر ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریز کو ہی آر آے ٹی ٹیسٹ کی اجازت دی جائے گی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

نیشنل بینک کی تقرریوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی سفارش

کراچی: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصول کو پیر کے روز کراچی کے دورے کے دوران حکومت نے نیشنل بینک آف پاکستان میں تقرریوں پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کی سفارش کی ہے۔ ٖسوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی باڈی نے مزید ہدایت دی کہ اسٹیٹ […]
n-b-p-wSD