نومبر میں مہنگائی معمولی کمی سے 8.3 فیصد رہی

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:3 Minute, 12 Second

اسلام آباد: ماہ نومبر میں کچھ اشیا کی قیمتوں میں معمولی کمی کے بعد افراط زر (مہنگائی) اکتوبر کی 8.9 فیصد سے کم ہوکر 8.3 فیصد رہی۔

سوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ادارہ شماریات کے جاری اعداد شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلسل دوسرے ماہ مہنگائی میں معمولی کمی آئی تاہم اس کے برعکس حقیقت میں ضروری اشیا کی قیمتیں اوپر کی طرف جارہی ہیں۔

غذائی مہنگائی اب بھی دو ہندسوں میں موجود ہے اور گزرنے والے مہینے میں اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

شہری علاقوں میں زائد غذائی قیمتوں نے مہنگائی پر بڑھنے کا دباؤ جاری رکھا اور نومبر میں غذائی اشیا کے گروپ کی قیمتیں سالانہ بنیادوں پر 13 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 1.6 فیصد بڑھیں۔

تاہم دیہی علاقوں میں یہ صورتحال مزید بدتر رہی جہاں نومبر میں اس میں سالانہ بنیادوں پر 16.1 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 2 فیصد اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ بنیادی غذائی اشیا ٹماٹر، پیاز، مرغی، انڈے، چینی اور آٹے کی قیمتیوں میں گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے اور روزمرہ استعمال ہونے والی ان اشیا کی قیتموں میں معمولی اضافہ بھی مجموعی مہنگائی پر کافی اثرانداز ہوتا ہے۔

نومبر میں سالامہ بنیادوں پر گندم کی قیمت 36.6 فیصد، گندم کے آٹے کی قیمت 13.28 فیصد، چاول 7.3 فیصد، انڈے 48.67 فیصد اور چینی 35.78 فیصد بڑھی۔

ادھر حکومت کی جانب سے شارٹ فال کو پورا کرنے اور مارکیٹ مین سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے گندم اور چینی درآمد کی گئی ہے، مزید یہ کہ سبزیوں کی نئی فصلوں، گنے کی کرشنگ کے سیزن اور پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کے ساتھ ہی مہنگائی میں مزید کمی متوقع ہے۔

مقامی پیداوار میں کمی کے ساتھ رواں مالی سال کا آغاز جولائی میں 9.3فیصد کی مہنگائی سے ہوا، جس کے بعد اگست میں اس میں کمی آئی اور یہ 8.2 فیصد رہی جس کے بعد ستمبر میں یہ ایک مرتبہ پھر 9 فیصد تک پہنچ گئی۔

جولائی سے نومبر کے دوران اوسط سی پی آئی گزشتہ سال کے 10.8 فیصد سے کم ہوکر 8.76 فیصد ہوگیا۔

واضح رہے کہ مالی سال 2020 میں سی پی آئی اس سے پہلے سال کے 6.8 فیصد سے بڑھ کر 10.74 فیصد تک پہنچ گیا تھا جو 12-2011 کے بعد سب سے زیادہ تھا۔

شہری علاقوں میں نومبر میں جن اشیائے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ان میں مرغی 21.36 فیصد، ٹماٹر 15.68 فیصد، آلو 8.79 فیصد، پیاز 5.81 فیصد، سبزیاں 5.63 فیصد، خشک میوہ جات 4.38 فیصد، انڈے 2.83 فیصد، مکھن 2.61 فیصد، مصالحہ جات اور مرچیں 2.6 فیصد اور مچھلی 1.89 فیصد بڑھی۔

تاہم شہری علاقوں میں جن علاقوں کی قیمتوں میں کمی آئی ان میں گندم کا آٹا 4.83 فیصد، گندم 431 فیصد، دال مونت 3.54 فیصد اور دال چنا 1.94 فیصد کم ہوئی۔

دیہی علاقوں میں مرغی 20.76 فیصد، آلو 15.8 فیصد، ٹماٹر 9.29 فیصد، پیاز 6.56 فیصد، چینی 5.39 فیصد، انڈے 5.23 فیصد، مصالحہ جات اور مرچیں 3.05 فیصد اور مکھن 1.46 فیصد تک مہنگی ہوئیں۔

دوسری جانب جن اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی ان میں گڑ 5.06 فیصد، بیسن 2.28 فیصد، دال مونگ 2.26 فیصد، پھل 2.21 فیصد، گندم کا آٹا 1.92 فیصد، دال ماش 1.82 فیصد، دال چنا 1.76 فیصد، پھیلیاں 1.17 فیصد، مچھلی 1.12 فیصد کم ہوئی۔

علاوہ ازیں شہری مراکز میں غیرغذائی افراط زر سالانہ بنیادوں پر 3.4 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 0.1 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ دیہی علاقوں میں یہ کر بالترتیب 5.5 فیصد اور 0.2 تک بڑھ گئی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کل قوم نے ٹانگیں کانپنے کا نظارہ دیکھا، شہباز گل

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے اسحٰق ڈار کے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل قوم نے ٹانگیں کانپنے کا نظارہ دیکھا۔ مشیر داخلہ شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز گل نے کہا کہ […]
shahbaz-gul-wSD