13دسمبر سے قبل گرفتاریاں ہوئیں تو نتائج بہت گہرے ہوں گے، رانا ثنااللہ

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:4 Minute, 15 Second

مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمران نیازی حکومت مقدمات درج کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کررہی ہے، یہ جتنے چاہیں مقدمات درج کر لیں لیکن اگر 13دسمبر سے پہلے گرفتاریوں کی طرف بڑھے تو اس کے نتائج بہت گہرے ہوں گے۔

فیصل آباد میں میڈیا سے گفگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا ثنااللہ نے کہا کہ 30نومبر کو ڈپٹی کمشنر نے جو کام کیا وہ ایک سول آفیسر کے شایان شان نہیں تھا، انہوں نے لوگوں کو بے جا پکڑا، مقدمات درج کروائے اور 30 دن کے لیے نظربند کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ ہائی کورٹ سے ان کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے ہیں لہٰذا میرا ڈپٹی کمشنر سے یہ مطالبہ ہے کہ ان لوگوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور آپ خود کو ایک سول آفیسر کے طور پر اپنا کام کریں، حکومتیں آنی جانی چیز ہیں، کسی حکومت کی وفاداری میں آپ کو اتنا آگے نہیں بڑھنا چاہیے کہ آپ ظلم کریں اور بے جا مقدمات درج کریں۔

پنجاب کے سابق وزیر قانون نے کہا کہ دو ایف آئی آر میرے پاس موجود ہیں جو انہوں نے مختلف لوگوں کے خلاف اس لیے درج کی ہیں کہ وہ پبلسٹی کررہے تھے جس بہت زیادہ لوگ جمع ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف پنڈی کا شیطان کہتا ہے کہ ان کے جلسوں میں لوگ نہیں آتے اور دوسری طرف شبلی فراڈ فرماتے ہیں کہ عوام نے بائیکاٹ کردیا ہے اور تیسری طرف یہ اندازے سے مقدمے درج کررہے ہیں کہ یہ پبلسٹی ہو گی تو یہاں بہت زیادہ تعداد میں لوگ آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس رویے کی ذمے داری انتظامیہ پر تو نہیں ہے، یہ بنی گالا میں بیٹھے لوگ ساری حرکتیں کررہے اور کروا رہے ہیں لیکن اتظامیہ کو چاہیے کہ وہ غیرجانبدار رہے اور وہ کوئی ایسا عمل نہ کرے جس کی وجہ سے حالات خرابی یا تصادم کی طرف جائیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملتان میں اگر انتظامیہ نے کریک ڈاؤن کیا تو جلسہ ناکام تو نہیں ہوا بلکہ پورے ملتان میں جلسہ ہوا اور شاہ رکن عالم انٹرچینج سے ملتان گھنٹہ گھر چوک تک 13 کلومیٹر کا راستہ بنتا ہے اور سارے شہر میں جلسہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملتان میں جب لوگ صبح نکلے تو انتظامیہ غائب تھی بلکہ پورے شہر میں کوئی ایک سپاہی نہیں نظر آیا، ٹریفک پولیس والے بھی ڈیوٹیاں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، اگر انہوں نے یہی حالات لاہور میں بھی پیدا کرنے ہیں تو پھر ان کی مرضی ہے، کل ہمیں کوئی دوش نہ دے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر انہوں نے یہ حالات لاہور میں بھی پیدا کیے تو اس سے تصادم اور کوئی حادثہ بھی ہو سکتا ہے، ہماری درخواست ہے کہ یہ اس طرف آگے نہ بڑھے اور آگے بڑھنا ہے تو اس کی ذمے داری ان پر ہو گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران نیازی حکومت مقدمات درج کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کررہی ہے تو یہ مقدمات جتنے چاہیں شوق سے درج کر لیں لیکن اگر یہ 13دسمبر سے پہلے گرفتاریوں کی طرف بڑھے تو اس کے نتائج بہت گہرے ہوں گے، ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اس طرح کی صورتحال پیدا نہیں کرنی چاہیے۔

مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما نے کہا کہ نواز شریف علاج کی غرض سے لندن میں رکے ہوئے ہیں، جیسے ہی علاج مکمل ہو گا تو واپس آئیں گے، باقی پارٹی کا ان کو مشورہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنا علاج مکمل کروائیں بلکہ اس نااہل اور نالائق ٹولے کا بھی علاج مکمل کر کے واپس آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وطن واپسی کا فیصلہ نواز شریف یا مسلم لیگ(ن) نے کرنا ہے، اس فیصلے کے لیے ہمیں کسی نے مشورہ دیا ہے نہ ہمیں کسی کے مشورے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو جذبہ خیرسگالی کے تحت رہا نہیں کیا گیا، پورے ملک سے لوگوں نے ان سے تعزیت کے لیے آنا تھا لیکن پہلے تو حکومت کے ترجمانوں نے گھٹیا بکواس کی اور اس معاملے پر انسانیت سوز رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف پانچ دن کے لیے پے رول پر رہا کیا جس سے ہم بالکل بھی مطمئن نہیں ہیں۔

اسمبلی سے استعفے دینے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 8دسمبر کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے، اس اجلاس سے متعلق کل مریم نواز کی شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے جس میں بقیہ پارٹی قیادت بھی موجود تھی، مسلم لیگ(ن) نے اپنا موقف واضح کر لیا ہے اور اب دیکھنا ہے کہ اس دن کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ اس دن 13دسمبر کے بعد کون سے مرحلے پر اتفاق ہوتا ہے، ایک ریلیاں ہو سکتی ہیں، فیصلہ کن لانگ مارچ کا آپشن ہے، تیسرا اس میں استعفوں کا آپشن ہے اور اب پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس فیصلہ کرے گا کہ کون سا آپشن پہلے اور کون سا بعد میں استعمال کرنا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

’جیمز بانڈ‘ کی پہلی فلم میں دکھایا جانے والا پستول 5 کروڑ میں فروخت

شہرہ آفاق جاسوس ہولی وڈ فلم سیریز’جیمز بانڈ‘ کی پہلی فلم ’ڈاکٹر نو‘ میں دکھایا جانے والا سیمی آٹومیٹڈ پستول 2 لاکھ 56 ہزار امریکی ڈالرز یعنی پاکستانی تقریبا 5 کروڑ روپے میں فروخت ہوگئی۔ ریکارڈ قیمت میں فروخت ہونے والے خراب پستول کو فلم ’ڈاکٹر نو‘ میں برطانوی خفیہ […]
jams-bond-wSD