ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو وفاقی وزیر خزانہ کا منصب تفویض

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:3 Minute, 28 Second

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی وزیر کے عہدے کا حلف اٹھایا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے انہیں وزیر خزانہ کا منصب تفویض کردیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عبدالحفیظ شیخ سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔

قبل ازیں ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ وزیر اعظم کےمشیر برائے خزانہ کے عہدے پر فائز تھے، حلف برداری کی تقریب میں اہم حکومتی اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے آئین کی دفعہ 91 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے عبدالحفیظ شیخ کو وفاقی وزیر بنانے کی منظوری دی تھی، آئین کے تحت وزیراعظم کو 6 ماہ کے لیے کسی بھی شخص کو وفاقی وزیر بنانے کا اختیار حاصل ہے۔

حالانکہ عبدالحفیظ شیخ قومی اسمبلی کے رکن نہیں تاہم آئین کی دفعہ 91 کی شق 9 کے تحت کوئی فرد جو منتخب نہ ہو وہ 6 ماہ کے لیے وزیر کے منصب پر فائز ہوسکتا ہے اور دوبارہ وزیر بننے کے لیے اسے قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونا پڑے گا۔

آئین کی دفعہ 91 (9) کے مطابق : کوئی وزیر جو مسلسل 6 ماہ کی مدت تک قومی اسمبلی کا رکن نہ رہے، مذکورہ مدت کے اختتام پر وزیر نہیں رہے گا اور مذکورہ اسمبلی کو توڑے جانے سے قبل اسے دوبارہ وزیر مقرر نہیں کیا جائے گا تاوقت یہ کہ وہ اسمبلی کا رکن منتخب نہ ہوجائے، مگر شرط یہ ہے کہ اس شق مں شامل کسی امر کا ایسے وزیر پر اطلاق نہیں ہوگا جو سینیٹ کا رکن ہو۔

عبدالحفیظ شیخ پارلیمان کا رکن نہ ہونے کی وجہ سے وزیر نہیں بن سکے تھے لیکن 7 دسمبر کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے نے حکومت کو انہیں مشیر سے وزیر بنانے پر مجبور کردیا۔

اسلام ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق عبدالحفیظ شیخ کابینہ کمیٹیوں کے رکن نہیں رہ سکتے تھے، عدالت عالیہ نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کی تشکیل غیر قانونی قرار دی تھی اور قرار دیا تھا کہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کابینہ کمیٹی کے سربراہ نہیں بن سکتے۔

ان کے علاوہ مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور ڈاکٹر عشرت حسین بھی کابینہ کمیٹی میں نہیں رہ سکتے۔

عبدالحفیظ شیخ اپریل 2019 سے مشیر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے اور اب انہیں وزارت میں عہدے کو برقرار رکھنے کے لیے 6 ماہ کے عرصے میں قومی اسمبلی یا سینیٹ کا الیکشن لڑکر پارلیمان کا حصہ بننا ہوگا۔

عبدالحفیظ شیخ اس سے قبل سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر اور یوسف گیلانی کے دور میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔

عبدالحفیط شیخ نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، وہ مایہ ناز تعلیمی ادارے ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھا چکے اور کئی برسوں تک عالمی بینک کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔

صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے عبد الحفیظ شیخ 2003 سے 2006 تک وزیر برائے نجکاری اور سرمایہ کاری کے منصب پر فائز رہے۔

بعدازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں وہ مارچ 2010 سے 19 فروری 2013 تک وزیر خزانہ، محصولات اور اقتصادی امور کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں اسد عمر کے وزیر خزانہ کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد 19 اپریل 2019 کو حفیظ شیخ وزیراعظم کے مشیر خزانہ کے منصب پر تعینات کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ

خیال رہے کہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کے تقرر کے علاوہ وزیر اعظم کے دیگر معاونین خصوصی اور مشیروں کی تعیناتیوں کے خلاف مختلف عدالتوں میں درخواستیں دائر ہوچکی ہیں۔

اس ضمن میں سب سے اہم پیش رفت 7 دسمبر کو سامنے آئی جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے قیام کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

عدالت نے حکم نامے میں قرار دیا تھا کہ غیر منتخب مشیر اور معاونین خصوصی حکومتی کمیٹیوں کی سربراہی نہیں کرسکتے۔

عدالتی فیصلے میں اعلان کیا گیا کہ کسی وزیر کی حیثیت سے مشیر کا تقرر ان کو اختیارات نہیں دیتا ہے کہ وہ وزیر کی حیثیت سے کام کرے یا رولز آف بزنس 1973 کے تحت اس طرح سے امور انجام دے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

احساس پروگرام پاکستان میں مثبت تبدیلی لا رہا ہے، رپورٹ

اسلام آباد: حکومت کے غربت کے خاتمے کا اقدام احساس پروگرام پاکستانی عوام میں مثبت تبدیلی لا رہا ہے اور غربت کو کم کرنے کے لیے عالمی ماڈل کی بنیاد رکھی ہے۔ سوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ اس رپورٹ کا کلیدی پیغام ہے ‘احساس پروگرام: سرپرستی کی سیاست […]
Ehsas-program-wSD