باسمتی چاول پر بھارتی دعویٰ پاکستان نے چیلنج کردیا

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:2 Minute, 6 Second

اسلام آباد: انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) پاکستان نے یورپی یونین میں باسمتی چاولوں کے لیے خصوصی جغرافیائی اشارے (جی آئی) حاصل کرنے کے بھارتی اقدام کے خلاف درخواست دائر کردی۔

سوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی پی او پاکستان نے برسلز میں موجود ایک بین الاقوامی لا فرم کے ذریعے ریگولیشن (ای یو) کی دفعہ 51 کے تحت مخالفت دائر کی۔

مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد نے بدھ کی رات کی گئی ایک ٹوئٹ میں اس پیش رفت کی تصدیق کی، انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ حکومت پوری تندہی اور عزم کے ساتھ اس کیس کا دفاع کرے گی۔

ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے لکھا کہ ‘میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے یورپی یونین میں چاول کی برآمدات کے لیے باسمتی چاول کے خصوصی حقوق کی درخواست کی مخالفت میں درخواست دائر کردی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاول سے منسلک افراد کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم بھرپور تندہی اور عزم کے ساتھ اس کیس کا دفاع کریں گے۔

جہاں بھارت بین الاقوامی سطح پر باسمتی چاول کی 65 فیصد تجارت کرتا ہے وہیں بقیہ 35 فیصد باسمتی چاول پاکستان پیدا کرتا ہے جو ملک کی سالانہ 80 کروڑ سے ایک ارب ڈالر برآمدات کے برابر ہے۔

آئی پی اور کے ایک عہدیدار نے کہا کہ یورپی کمیشن کے قواعد کے تحت کویئ درخواست جب باضابطہ جنرل میں شائع ہوجائے تو اس کے 3 ماہ کے اندر مخالفت دائر کرنا ہوتی ہے، پاکستان نے اس مہلت کے ختم ہونے سے 2 روز قبل اپنی درخواست دائر کردی۔

11 ستمبر کے یورپی یونین کے باضابطہ جنرل کے مطابق بھارت نے یورپی پارلیمنٹ کے ریگولیشن کے آرٹیکل 50 اور کونسل آن کوالٹی اسکیم فار ایگریکلچر پروڈکٹس کے تحت باسمتی چاولوں کے لیے جی آئی ٹیگ کی درخواست دی تھی۔

تاہم 22 ستمبر کو پاکستانی حکومت نے یورپی یونین میں باسمتی چاول کے لیے جی آئی ٹیگ کے خصوصی حقوق حاصل کرنے کی درخواست کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جغرافیائی اشارے کا تحفظ کسی ملک کو اس کی برآمدات بڑھانے، دیہی ترقی میں معاونت اور ہنر مندوں، زرعی مصنوعات پیدا کرنے والوں کے روزگار کو فروغ میں مدد دیتا ہے۔

جی آئی مصنوعات کی مارکیٹنگ ضمنی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیتی ہیں تا کہ علاقائی معاشی ترقی میں اضافہ ہو۔

جی آئی قانون مقامی پاکستانی مصنوعات مثلاً پشاوری چپل، ملتانی نیلے نقشین کاری والے ظروف، ہنزہ کی خوبانی، ہالہ کی اجرک، قصوری میتھی، چمن کے انگور اور تربت کی کھجوروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

چینی کی قیمت میں کمی پر ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں چینی کی قیمت میں کمی کا بتاتے ہوئے اپنی ٹیم کو مبارک باد پیش کی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم نے لکھا کہ ایک ماہ قبل کے 102 روپے کے مقابلے میں آج ماشااللہ سے ملک بھر […]
imran-khan-wSD