زرداری کا فضل الرحمٰن سے رابطہ، بینظیر بھٹو کی برسی پر جلسے میں شرکت کی دعوت

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:2 Minute, 36 Second

ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جاری حکومت مخالف احتجاج پر تبادلہ خیال کیا۔پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو 27 دسمبر کو سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر لاڑکانہ میں ہونے والے جلسے میں شرکت کی دعوت دے دی۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سابق صدر نے مولانا فضل الرحمٰن کو ٹیلی فون کال کی۔ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن 11 اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر بھی ہیں۔

ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جاری حکومت مخالف احتجاج پر تبادلہ خیال کیا۔

ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جاری حکومت مخالف احتجاج پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر آصف علی زرداری نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو دعوت دی کہ وہ 27 دسمبر کو بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدابخش لاڑکانہ میں ہونے والے جلسے میں شرکت کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی بینظیر بھٹو کی شہادت کے سلسلے میں 27 دسمبر کو گڑھی خدابخش میں جلسے کا انعقاد کر رہی ہے۔

اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے پی ٹی ایم رہنماؤں کو جلسے میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

پیپلزپارٹی کی سندھ قیادت کو گڑھی خدا بخش میں 27 دسمبر کے جلسے میں پی ٹی ایم کے تمام رہنماؤں کے آمد کی توقع کر رہی ہے۔

گڑھی خدابخش سندھ کے شہر لاڑکانہ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں بینظیر بھٹو کا مزار ہے۔

ادھر پیپلزپارٹی سندھ کے صد نثار احمد کھوڑو کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی صدر مریم نواز اور دیگر پی ڈی ایم رہنماؤں کی جلسے میں آمد متوقع ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ جلسہ بہت بڑا ثابت ہوگا اور ہم لوگوں کی بڑی تعداد کی توقع کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب اپوزیشن اتحاد حکومت مخالف تحریک کے دوسرے مرحلے میں آگے بڑھ رہا ہے۔

پی ڈی ایم کا مطالبہ ہے کہ تحریک اںصاف حکومت 31 جنوری تک اقتدار چھوڑ دے یا اپوزیشن کی تیز تحریک کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے جس میں وفاقی دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفے شامل ہیں۔

قبل ازیں گزشتہ روز پی ٹی ایم نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی حکومت کو گھر بھیجنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ساتھ ہی انہوں نے حکومت کو خراب کارکرگی اور عوام مخالف پالیسیز پر ہدف تنقید بنایا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

میرِ کارواں ہے محمد علی جناحؒ!

قائدِاعظم محمد علی جناحؒ۔ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں، جنہوں نے بہت محدود وقت میں نہ صرف دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک ابھارا بلکہ ایک نئی قوم تشکیل دی۔ ظلم کی چکی میں پستے مسلمانوں کے لیے ایک جغرافیائی خطے کا حصول ممکن بنایا، جہاں وہ آزادی […]
quaid-e-azam-wSD