پاکستان میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز سامنے آگئے

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:2 Minute, 26 Second

پاکستان میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز کی تصدیق ہوگئی جو سب سے پہلے برطانیہ میں سامنے آئے تھے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق وائرس کے جینیاتی تجزیے کے لیے برطانیہ سے آنے والے 12 افراد کے نمونے اکٹھے کیے گئے تھے جس میں سے 6 مثبت آئے اور اس میں سے 3 نمونوں میں ابتدائی مرحلے میں کورونا وائرس کی نئی قسم ظاہر ہوئی۔

محکمہ صحت سندھ کی ترجمان میران یوسف نے ایک بیان میں بتایا کہ ‘جینیاتی تجزیہ میں ظاہر ہوا کہ وائرس میں آنے والی تبدیلیاں برطانیہ میں رپورٹ ہونے والی تبدیلیوں سے 95 فیصد ملتی جلتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان مریضوں کے رابطے تلاش کرنے کا عمل جاری ہے اور انہیں آئیسولیٹ بھی کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ہفتہ کے روز ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وہ ‘کورونا وائرس کی نئی قسم کے حوالے سے برطانوی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں’ اور مزید معلومات ملنے پر حکومتوں اور عوام کو فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں دریافت ہونے والے نئے وائرس کو وی یو آئی 202012/01 یا لائنیج بی 117 کا نام دیا گیا ہے، اس وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق 14 دسمبر کو کی گئی تھی۔

تاہم حکومت نے بتایا تھا کہ نئے وائرس کے نمونے ابتدائی طور پر 20 ستمبر کو ملے تھے۔

کورونا وائرس کی اس نئی قسم میں 14 میوٹیشن موجود ہیں، جن میں سے 7 اسپائیک پروٹین میں ہیں۔

یہ وہی پروٹین ہے جو وائرس کو انسانی خلیات میں داخل ہونے میں مدد دیتا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں تبدیلیاں دنیا بھر میں گردش کرنے والے اس وائرس کی دیگر اقسام کے مقابلے میں کافی نمایاں ہیں۔

ماہرین کے مطابق اور اب تک کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نئی قسم وائرس کی اصل صورت سے 56 فیصد زائد متعدی ہت اور کیسز میں تیزی سے اضافے کی وجہ بن رہی ہے۔

قبل ازیں وزارت صحت نے کہا تھا کہ وہ کووِڈ 19 کی نئی قسم کے حوالے سے چوکنا ہیں، تاہم وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کے شعبہ صحت کی صورتحال اچھی نہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے صورتحال ‘بدترین’ ہے۔

برطانیہ میں سب سے پہلے سامنے آنے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز لگ بھگ 15 ممالک میں پھیل چکے ہیں۔

پاکستان کے علاوہ دیگر ایشیائی، یورپی، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکا کے کئی ممالک بھی برطانیہ سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔

جن ممالک نے فرانس پر سفری پابندیاں عائد کیں ان میں فرانس جرمنی، اٹلی، نیدر لینڈ، بیلجیئم، آسٹریا، آئرلینڈ اور بلغاریہ، ایران، بھارت، سعودی عرب شامل ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

مولانا شیرانی کا جے یو آئی (پاکستان) کو جے یو آئی (ف) سے الگ کرنے کا اعلان

اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے جمعیت علمائے اسلام (پاکستان) کو جمعیت علمائے اسلام (ف) سے الگ کرنے کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ناراض رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس میں مولانا محمد خان شیرانی نے کہا اب جو کچھ […]
Maulana-Sherani's-wSD