حکومت پر تنقید سے کوئی پریشانی نہیں: وزیرِ اعظم

ویب ڈیسک

وزیرِ اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ انہیں حکومت پر تنقید سے کوئی پریشانی نہیں، لیکن ان کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔

0 0
Read Time:2 Minute, 29 Second

وزیرِ اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ انہیں حکومت پر تنقید سے کوئی پریشانی نہیں، لیکن ان کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت کے فوجی قیادت سے بہترین تعلقات ہیں، فوج حکومت کی تمام پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازع علاقہ ہے، کشمیر کے مسئلے کے فوجی حل پر یقین نہیں رکھتے، ہم چاہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر

پر او آئی سی قائدانہ کردار ادا کرے۔

عمران خان نے کہا کہ بعض عناصر افغان امن عمل متاثر کرنا چاہتے ہیں، جو افغان عوام کے لیے بہتر ہو گا وہی ہمارے لیے بھی بہتر ہو گا۔

بھارت میں انتہا پسندوں کی حکومت ہے، آر ایس ایس انتہا پسند تنظیم ہے، بی جے پی، آر ایس ایس کے انتہا پسندانہ نظریات پر عمل پیرا ہے۔

بھارت کو کسی بھی پاکستانی سے بہتر جانتا ہوں، اقتدار میں آیا تو بھارت کی طرف امن کیلئے ہاتھ بڑھایا، بدقسمتی سے بھارتی وزیرِ اعظم نے امن کی پیشکش کو قبول نہیں کیا، بھارتی حکومت نازیوں سے متاثر ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ افغانستان کی جنگ میں بہت خون ریزی ہوئی، میں کہتا رہا کہ افغان مسئلے کا حل مذاکرات ہیں، جو افغانستان کے لیے بہتر ہے وہ پاکستان کے لیے بھی بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو معاشی چیلنجز کا سامنا تھا، ملک کو درست سمت میں گامزن کر دیا ہے، نہیں چاہتے کہ ہماری معیشت کا انحصار قرضوں پر ہو۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے کرپشن کا خاتمہ بہت ضروری ہے، کورونا سے متعلق پاکستان نے بہترین فیصلے کیئے، یہ جمہوری حکومت ہے جو الیکشن جیت کر آئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم نے آنکھیں بند کر کے مکمل لاک ڈاؤن کی پالیسی نہیں اپنائی، راتوں رات معیشت کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، حکومت اظہارِ رائے کی آزادی پر مکمل یقین رکھتی ہے، پاکستان میں میڈیا پر کوئی قدغن نہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ میرے دور میں حکومت پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی، ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 20 سال برطانیہ میں رہا ہوں، جانتا ہوں کہ آزادیٔ اظہارِ رائے کا کیا مطلب ہے، نہیں چاہتے کہ ہماری معیشت کا انحصار قرضوں پر ہو۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے بعض ممالک انسانی حقوق کے بجائے معاشی مفادات کا سوچتے ہیں، فلسطین کے معاملے پر یک طرفہ فیصلے مسائل کا حل نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل جب تک فلسطین کو الگ ریاست نہ دے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، فلسطین پر کسی بھی یک طرفہ فیصلے کے نتائج دور رس ثابت نہیں ہوں گے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے بہترین برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان کا معاشی مستقبل چین سے جڑا ہے، ہمیشہ کی طرح چین کے ساتھ پہلے سے بھی بہتر تعلقات ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

طاہر رضا بخاری سے متعلق دفتر میں شراب پینے کی خبر بے بنیاد ہے، فیاض چوہان

وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ ڈی جی مذہبی اُمور طاہر رضا بخاری سے متعلق دفتر میں شراب پینے کی خبر بے بنیاد ہے۔
fayyaz-chauhan-wSD