وزیر اعظم کا 12 ستمبر سے بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے اعلان کا خیر مقدم

ویب ڈیسک

وزیراعظم عمران خان نے 12 ستمبر 2020 سے بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

0 0
Read Time:3 Minute, 30 Second

وزیراعظم عمران خان نے 12 ستمبر 2020 سے بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ آخر کار ہماری مشترکہ کوششیں رنگ لائی ہیں جس کا افغان عوام کو کئی سالوں سے انتظار تھا، تقریباً 40 سال تک افغانیوں نے مسلسل تنازعات اور خون ریزی کا سامنا کیا ہے جبکہ پا کستان دہشت گردی کے واقعات، قیمتی جانوں کے نقصان اور بھاری معاشی نقصانات سے آگاہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ایک لمبے عرصے سے یہ بات واضح کرتا آیا ہوں کہ افغانستان میں تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور تنازعات کو صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انتھک کوششوں سے افغان امن عمل میں معاونت میں کلیدی کردار کیا ہے جس کے نتیجے میں آج یہ وقت آن پہنچا ہے اور آج ہم بہت زیادہ مسرت محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اب افغان قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں، مثبت انداز میں مل کر کام کریں اور ایک جامع اور پرامن حل کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان قیادت پر مشتمل افغان امن اور تعمیر نو اور مشاورتی عمل افغانستان کی آزادی ہے اور اس سے خطے کی سلامتی، امن اور خوشحالی ممکن ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے تمام مسائل کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں گے اور افغانستان میں امن و استحکام کے مقصد کے حصول کی خواہش کو عملی جامہ پہنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی جانب سے افغان عوام کی بھرپور معاونت اور یکجہتی جاری رکھے گا تاکہ امن و امان اور ترقی کے سفر کو یقینی بنایا جاسکے۔

واضح رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بین الافغان مذاکرات کا ہفتہ سے قطر میں آغاز ہوگا۔

طالبان کے 6 قیدیوں کی آخری رکاوٹ دور ہونے کے بعد گزشتہ روز قطر کی وزارت خارجہ نے مذاکرات کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘افغانستان کے فریقین کے درمیان یہ براہ راست مذاکرات انتہائی اہم ہیں اور افغانستان میں دیرپا امن کی جانب قدم ہے۔’

طالبان نے مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘ان مذاکرات کا مقصد امن عمل کو صحیح طریقے سے آگے بڑھانا اور ہماری اسلامی اقدار اور قومی مفادات کے تحت جامع امن اور اسلامی نظام کو رائج کرنا ہے۔’

خیال رہے کہ ان مذاکرات سے قبل افغانستان میں پر تشدد واقعات میں اضافے نے امن عمل کے تمام بین الاقوامی حامیوں کو پریشان کردیا ہے، خاص طور پر طالبان کے زیر انتظام علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا جبکہ کابل میں ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی ہے۔

بدھ کے روز افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کے قافلے پر حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہوگئے تھے۔

طالبان نے ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے لیکن افغان حکومت کو طالبان کے انکار پر شبہ ہے اور اس کا ماننا ہے کہ ان حملوں میں شورش سے وابستہ گروہوں کا ہاتھ ہے۔

کچھ کا کہنا ہے کہ پر تشدد کارروائیوں میں اضافے کی منصوبہ بندی طالبان نے مذاکرات کی میز میں زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے کی ہے۔

پاکستان کا اصرار ہے کہ پرتشدد کارروائیاں ‘بگاڑ پیدا کرنے والوں’ کا کام ہے جو امن عمل کی کامیابی نہیں چاہتے اور دونوں ملکوں میں حملے کررہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امن عمل میں سہولت کاری فراہم کی اور فروری میں امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں متحرک رہا جس سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار، عیدالاضحٰی پر جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر جمود ٹوٹا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بحریہ ٹاؤن نے لیز کے حقوق کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن (پرائیوٹ) لمیٹڈ کراچی (بی ٹی ایل کے) نے حکومت سندھ سے لیز کے حقوق میں توسیع کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔
Bahria-Town-Karachi-wSD