بحریہ ٹاؤن نے لیز کے حقوق کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

ویب ڈیسک

اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن (پرائیوٹ) لمیٹڈ کراچی (بی ٹی ایل کے) نے حکومت سندھ سے لیز کے حقوق میں توسیع کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

0 0
Read Time:3 Minute, 52 Second

اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن (پرائیوٹ) لمیٹڈ کراچی (بی ٹی ایل کے) نے حکومت سندھ سے لیز کے حقوق میں توسیع کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

لیز کے حقوق میں توسیع کے بغیر بحریہ ٹاؤن کو اپنے الاٹیز میں حقوق کی منتقلی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کے توسط سے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی گئی 3 صفحات پر مشتمل درخواست میں بیان کیا گیا کہ نومبر 2019 تک مجموعی طور پر 460 ارب روپے واجب الادا رقم میں سے 57 ارب 40 کروڑ روپے ادا کیے جاچکے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاؤن نے سپریم کورٹ کے 21 مارچ 2019 کے عملدرآمد بینچ کے فیصلے پر عمل کیا اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) میں 16 ہزار 896 ایکٹر رقبہ اراضی کی خریداری کے لیے عملدرآمد بینچ کی 460 ارب روپے کی پیش کش کو کیسے قبول کیا۔

سپریم کورٹ کے سابق جج شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے گزشتہ سال 21 مارچ کو عدالت کے 4 مئی 2018 کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے لیے 460 ارب روپے کی پیش کش کو منظور کیا تھا

جس میں ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو سندھ کی جانب سے اراضی کی گرانٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ انکریمنٹ ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے کے لیے یہ زمین دی گئی تھی لیکن ایم ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ اس کا تبادلہ اپنی اسکیم شروع کرنے کے لیے کیا۔

تازہ ترین درخواست میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاؤن پہلے ہی 557 ارب روپے سپریم کورٹ میں جمع کرچکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے 21 مارچ 2019 کو اپنے آرڈر کے ذریعے بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کرنے کی اجازت دی تھی ورنہ 16،896 ایکڑ اراضی کی ڈیل میں بطور ایک بلڈر یا ڈیولپر کی حیثیت سے سوال کریں۔

حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ پوری ادائیگی کی وصولی پر 16 ہزار 896 ایکڑ اراضی میں لیز ہولڈ حقوق سندھ حکومت / ایم ڈی اے کے ذریعے 99 سال کی مدت کے لیے یا اس طرح کے دوسرے دور حکومت کے لیے لیز پر بحریہ ٹاؤن میں منتقل کردیے جائیں گے۔

بعدازاں بحریہ ٹاؤن شرائط و ضوابط کے مطابق الاٹیز کے حق میں حقوق کی منتقلی کرے گا۔

درخواست میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاؤن کے الاٹیز کو بحریہ ٹاؤن کراچی سپر ہائی وے پروجیکٹ میں لیز کی عدم دستیابی کی وجہ سے مالی اعانت حاصل کرنے اور ان کی جائیدادوں کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بحریہ ٹاؤن کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو مجموعی طور پر کارپوریٹ اداروں کو اپنی کمرشل اراضی بیچنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا جبکہ بین الاقوامی سطح پر محصول وصول کرنے کے لیے درخواست گزار کو دستیاب سب لیز پر لیز کے استحقاق کی عدم فراہمی کی وجہ سے 460 ارب روپے کی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت عظمیٰ سندھ حکومت کی جانب سے لیز پر جمع شدہ رقم کی حد تک بحریہ ٹاؤن کراچی سپر ہائی وے پروجیکٹ کو 99 سال کی مدت کے لیے منتقل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بدلے میں الاٹیز کے ساتھ پہلے سے طے شدہ شرائط و ضوابط کے مطابق الاٹیز کے حق میں لیز ہولڈ حقوق منتقل کردیے جائیں گے۔

اس سے قبل اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے توسط سے وفاقی حکومت نے تجویز پیش کی تھی کہ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جمع کرائے جانے والے فنڈز بنیادی طور پر سندھ کے عوام کے ہیں اور یہ سب سے مناسب ہوگا کہ پوری رقم جمع کروائی جائے۔

تاہم وفاقی حکومت نے عدالت عظمیٰ سے کہا تھا کہ منصوبوں پر ہونے والے اخراجات میں وفاقی حکومت اور نہ ہی حکومت سندھ کا دخل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس کے بجائے چیف جسٹس کی مشاورت سے عدالت فنڈ کے استعمال کی نگرانی کے لیے کمیٹی کے چیئرمین کو نامزد کرسکتی ہے۔

وفاقی حکومت نے تجویز کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیئرمین سابق سپریم کورٹ جج ہونا چاہیے جو سندھ سے تعلق رکھنے والے اور رہنے والے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کی جاب سے جمع کروائی جانے والی رقم کے بارے میں وفاقی حکومت کی خواہش رہی کہ اسے 50-50 کی بنیاد پر سندھ کے دیہی / شہری منصوبوں پر وقتا فوقتا خرچ کیا جائے۔

کراچی میں اے جی نے مطالبہ کیا تھا اس رقم کو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے جبکہ دیہی علاقوں میں اس کو غریبوں، ہسپتال، اسکولوں اور سیوریج نظام کے لیے رہائشی اسکیموں پر استعمال کیا جائے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

موٹروے گینگ ریپ کیس کی گتھی تاحال نہیں سلجھ سکی

لاہور: عوام میں مایوسی ایک نئی حد کو چھو رہی ہے چونکہ تفتیش کار موٹروے کے قریب خاتون کے گینگ ریپ کے تقریباً 72 گھنٹے بعد بھی کوئی پیش رفت رپورٹ دینے میں ناکام رہے ہیں۔
motorway-gang-rape-case-wSD