حکومت چاہتی ہے پاکستان گرے لسٹ میں رہے، مریم اورنگزیب

ویب ڈیسک

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) بل کی آڑ میں حکومت سیاسی مخالفین کو رگڑنا چاہتی ہے تاکہ پاکستان گرے لسٹ میں رہے۔

0 0
Read Time:4 Minute, 51 Second

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) بل کی آڑ میں حکومت سیاسی مخالفین کو رگڑنا چاہتی ہے تاکہ پاکستان گرے لسٹ میں رہے۔
اسلام آباد میں میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کو یہ نہیں معلوم کہ ایف اے ٹی ایف بل کے ڈرافٹ میں کیا ہے اور مذکورہ بل پر کسی نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے تو وہ اپوزیشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا نام ایف اے ٹی ایف بل میں تحریک انصاف کی حکومت نے نہیں ڈلوایا بلکہ مسلم لیگ (ن) نے شامل کرایا تھا اور بل پاس کرانے میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت ہے۔
خیال رہے اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کے مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت گرے لسٹ میں ہے اگر بلیک لسٹ ہوجاتا ہے تو معاشی بحران آ سکتا ہے لہذا ہماری حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر سنجیدگی سے کام شروع کیا۔
علاوہ ازیں شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کو واپس لائیں کیونکہ وہ ان کے ضمانتی ہیں۔
جس کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ تحریک انصاف کو حکومت چلانے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا نام لینا پڑتا ہے جبکہ نواز اور شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات صرف کاغذ لہرانے سے ثابت نہیں ہوتے بلکہ انہیں عدالتوں میں ثابت کرنا ہوتا ہے۔
ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ حکومت نے چینی چوروں کو این آر او دے کر بیرون ملک فرار کرادیا کیونکہ ملک کی ترقی کی شرح 5.8 فیصد تھی منفی 0.4 تک پہنچ چکی، ملک میں عوام کے نام پر 13 ہزار کا قرضہ لے کر قوم کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے حوالہ کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کرپشن کی وجہ سے آٹا 33 روپے نہیں بلکہ 87 روپے فی کلو فروخت کیا جارہا ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف قانونی طریقے اور حکومت پنجاب کی اجازت سے بیرون ملک علاج کرنے گئے ہیں، اگرعبرت کا نشانہ بنانا ہے تو بنائیں صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد اور سروسز ہسپتال کے سربراہ اور اس کے پورے بورڈ کو جس نے رپورٹ لکھا کہ ہم نواز شریف کا علاج پاکستان میں نہیں کرسکتے۔
مریم اورنگزیب کا بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ لندن جاکر وہ 20 سال کے جوان بن گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے ان کے اہلخانہ کی بھی تشویش دور ہوگئی ہے، عدالتیں ان سے رپورٹس مانگ رہی ہیں مگر وہ رپورٹس نہیں پیش کررہے اس کا مطلب ہے کہ ہوسکتا ہے جاتے وقت جو رپورٹس جمع کرائی گئی تھیں وہ بھی جھوٹی تھیں۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم گزشتہ ماہ اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ ایئر ایمبولینس میں علاج کے لندن پہنچے تھے۔
انہیں اکتوبر میں خرابی صحت کے باعث قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفتر سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے پلیٹلیٹس میں مسلسل کمی کے باعث صحت پیچیدہ ہورہی تھی۔
ماہر امراض خون نے نواز شریف کو ایکیوٹ امیون تھرمبو سائیٹوپینیا (آئی ٹی پی) نامی بیماری لاحق ہونے کی تشخیص کی تھی جو خون کے خلیات میں خرابی کی علامت ہے۔
بعدازاں نواز شریف کے علاج کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ نے بتایا تھا کہ ان کے کچھ طبی ٹیسٹس اور علاج بیرونِ ملک میں ہی ممکن ہیں۔
جس پر العزیزیہ ریفرنس کیس میں قید کی سزا کاٹنے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نے بیرونِ ملک روانگی کی اجازت کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
جہاں لاہور ہائی کورٹ نے پہلے ان کی چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد اسلام آباد کورٹ نے ابتدائی طور پر العزیزیہ ریفرنس میں ان کو 3 دن کی ضمانت دی تھی، بعدازاں درخواست پر مزید سماعت کے بعد عدالت عالیہ نے ان کی سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کردیا تھا۔
8 نومبر کو شہباز شریف وزارت داخلہ کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی تھی جس کے بعد حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کا اعلان کیا جس کے تحت روانگی سے قبل انہیں 7 ارب روپے کے انڈیمنٹی بانڈز جمع کروانے تھے۔
تاہم انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے علاج کے بعد وطن واپسی کی ضمانت کے لیے 7 ارب روپے کے انڈیمیٹی بانڈز جمع کروانے کی شرط پر بیرونِ ملک جانے سے انکار کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لندن: مرض کی تشخیص کیلئے نواز شریف کا پی ای ٹی اسکین
جس کے بعد ان کے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے عدالت میں تحریری طور پر اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ نواز شریف کی صحت یابی کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے سفر کی اجازت ملنے پر ان کی وطن واپسی یقینی بنائیں گے جس پر عدالت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی.
چنانچہ وزارت داخلہ سے 18 نومبر کو بیرون ملک سفر کے لیے گرین سگنل ملنے کے بعد 19 نومبر کو قائد مسلم لیگ (ن) خصوصی طور پر بلائی گئی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لندن پہنچ گئے تھے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

آپا اور پاپا مل کر چاچا کی سیاست کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں، فواد چوہدری

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ لندن جاکر وہ 20 سال کے جوان بن گئے ہیں۔
Fawad-Chaudhry-wSD