خیبرپختونخوا: حاملہ خاتون پر تشدد پر ایس ایچ او کےخلاف انکوائی کا حکم

ویب ڈیسک

مانسہرہ: ہزارہ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس قاضی جمیل الرحمٰن نے حاملہ خاتون پر مبینہ تشدد کے الزام میں دربند پولیس اسٹیشن ہاؤس (ایس ایچ او) کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔

0 0
Read Time:2 Minute, 9 Second

مانسہرہ: ہزارہ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس قاضی جمیل الرحمٰن نے حاملہ خاتون پر مبینہ تشدد کے الزام میں دربند پولیس اسٹیشن ہاؤس (ایس ایچ او) کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔

9 ماہ کی حاملہ خاتون نے منگل کی رات ایک لاوارث بچے کو جنم دیا تھا۔

ڈی آئی جی نے حکم نامے میں کہا کہ ’میں نے پولیس سپرنٹنڈنٹ مانسہرہ جمیل اختر کی سربراہی میں انکوائری ٹیم تشکیل دی ہے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایس ایچ او اور دیگر مبینہ تشدد میں ملوث پائے گئے توان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

خاتون نے دعوی کیا کہ ایس ایچ او محمد نواز نے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ رات کو تحصیل اوغی کے برادر گاؤں میں دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے اور انہوں نے لاتیں ماری اور تشدد کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جس وقت پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے اس وقت ان کے شوہر گھر پر نہیں تھے۔

دریں اثنا پولیس کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جمیل اختر نے خاتون کے شوہر سے ملاقات کی جس نے دعوی کیا کہ پولیس نے منشیات کی فروخت میں اس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔

خاتون کے شوہر نے خبردار کیا کہ اگر ان کے کنبہ کو انصاف نہیں ملا تو وہ سب کے سامنے خودسوزی کرلیں گے۔

بھنگ کاشتکاروں کے خلاف کریک ڈاون: ضلع لوئر کوہستان کے رہائشیوں نے ضلعی انتظامیہ سے ضلع میں پوست اور بھنگ کاشتکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

مذہبی رہنما مولانا احمد علی نے انتظامیہ کے زیر اہتمام کھولی کچہری کو بتایا کہ ضلع میں بہت سے گائوں ہیں جہاں لوگ قانون کے خلاف پوست اور بھنگ کاشت کرتے ہیں اور ان کے خلاف تاخیر کے بغیر کارروائی کی جانی چاہیے۔

کچہری میں شریک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (وسطی) عاشق حسین نے لوگوں سے پوست اور بھنگ کاشتکاروں کی شناخت کرنے کی درخواست کی۔

ڈپٹی کمشنر خالد خان نے بتایا کہ ضلع میں حالیہ طوفانی سیلاب سے تباہ ہونے والی بیشتر سڑکیں دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے عوامی جان و مال کو سیلاب سے ہونے والے نقصان کے بارے میں باضابطہ طور پر صوبائی حکومت کو آگاہ کیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر خالد خان نے بتایا کہ ضلع میں حالیہ طوفانی سیلاب سے تباہ ہونے والی بیشتر سڑکیں دوبارہ ٹریفک کے لئے کھول دی گئیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے عوامی جان و مال کو سیلاب سے ہونے والے نقصان کے بارے میں باضابطہ طور پر صوبائی حکومت کو آگاہ کیا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کراچی کو ملنے والے 1100 ارب کی کہانی ہے کیا؟

کراچی شہر میں ہونے والی حالیہ بارشوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی نے وفاق، صوبے اور شہر کی سیاسی اور انتظامیہ مشینری کو متحرک کردیا ہے۔
PM-imran-wSD