نظریہ اور پالیسی سازی حکومت کی سمت کا تعین کرتی ہے، وزیراعظم

ویب ڈیسک

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کا جو نظریہ اور پالیسی سازی ہوتی ہے دراصل وہ ہی ایک روڈ میپ ہے جس پر چل کر مقاصد کی تکمیل ممکن ہوتی ہے۔

0 0
Read Time:2 Minute, 56 Second

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کا جو نظریہ اور پالیسی سازی ہوتی ہے دراصل وہ ہی ایک روڈ میپ ہے جس پر چل کر مقاصد کی تکمیل ممکن ہوتی ہے۔

یوسف خیل ایف سی کیمپ میں عمائدین سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا نظریہ وہ اصول ہیں جو مدینہ کی ریاست کے اصول تھے جس کے تحت کمزور طبقے کو اوپر لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مدینے کی ریاست میں جس کوئی ظاہری حیثیت نہیں تھی انہوں نے دنیا کی امامت کی۔

وزیراعظم عمران خان نے زور دیا کہ ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری کمزور طبقے کو ترقی دینا ہے اور جو کمزور طبقوں کی بات کرتے ہیں تو دراصل آپ وہ بات کرتے ہیں جو علاقے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

اس سے قبل وزیراعظم نے تحصیل حلیم زئی میں مہمند باجوڑ اور یکہ غنڈ غلنئی روڈ کا افتتاح کیا۔

وزیراعظم نے عمائدین سے خطاب میں کہا کہ ‘میرا واضح مؤقف ہے کہ پنجاب اور سندھ کے متعدد اضلاع ترقی میں پیچھے رہ گئے جبکہ قبائلی علاقوں میں پھر تھوڑی ترقی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘سندھ میں جو سیاسی پارٹی اندورن سندھ سے منتخب ہوتی ہے وہ کراچی کے لیے کچھ نہیں کرتی’۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا گڑھ وسطی پنجاب تھا اور ساری ترقیاتی اسکیمیں محض ایک جگہ رہ جاتی تھیں اور باقی علاقے پسماندہ رہ جاتے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی تو صوبے نے وعدے کے مطابق اپنے فنڈز فراہم نہیں کیے، میں ان کو یاد کراتا ہوں کہ دین اور قرآن میں وعدوں کو پورا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے اپنا حصہ دے دیا لیکن دیگر صوبے محدود مالی وسائل کا رونا رو رہے ہیں، دو برس کے دوران جب معیشت بہتر ہونے لگی تو کورونا کی وبا نے معاشی نظام تباہ کردیا اور محصولات کم جمع ہوئے۔

وزیراعظم نے قبائلی علاقوں کے فنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی۔

عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے انضام کے خلاف کچھ عناصر انتشار پھیلائیں گے، جو ملک سے باہر دشمن ہیں وہ اس طرح کے عناصر کی فنڈنگ بھی کرتے ہیں۔

پاک افغان سرحد پر باڑ سے متعلق وزیرا عظم عمران خان نے کہا کہ باڑ کی موجودگی سے اسمگلنگ کی روک تھام ہوئی ہے، اسمگلنگ کی وجہ سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں افغان امن عمل کو خوش آئند قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات کامیاب ہوجائیں، ادھر بھی خوف ہے کہ ایسے عناصر ہیں جو نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘افغانستان میں امن ہونے کی صورت میں تمام قبائلی علاقوں میں مثبت تبدیلی آجائے گی کیونکہ وسطیٰ ایشیا تک تجارت کرنے کا موقع ملے گا’۔

‘قبائلی علاقے ضم نہ ہوتے تو مقامی لوگ زندگی کی ریس میں پیچھے رہ جاتے’

بعدازاں باجوڑ میں عمائدین سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقے ضم نہ ہوتے تو مقامی لوگ زندگی کی ریس میں پیچھے رہ جاتے۔

انہوں نے کہا کہ سڑک کی تعمیر سے رابطے بحال ہوں گے اور مقامی صنعت کو ترقی ملے گی جس سے روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں تعلیمی کا معیار انتہائی پسماندہ ہے جبکہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کو روز گار کے لیے کراچی اور دیگر شہروں یا ملک کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

میگا منی لانڈرنگ ریفرنس: آصف زرداری، فریال تالپور فرد جرم عائد

اسلام آباد: احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس سے متعلق میگا منی لانڈرنگ ضمنی ریفنرس میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، اومنی گروپ کے انور مجید اور عبدالغنی مجید سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔
asif-ali-zardari-wSD