بابر اعظم پر سنگین الزامات لگانے والی خاتون پر قاتلانہ حملہ

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:4 Minute, 14 Second

قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم پر جنسی تعلقات سنگین الزامات عائد کرنے والی خاتون حامزہ مختار پر لاہور میں مبینہ طور پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں وہ محفوظ رہیں۔

خاتون کی گاڑی پر اتوار کی رات دو موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اس وقت فائرنگ کی جب وہ نجی کام سے واپس آ رہی تھیں۔

موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر چار فائر کیے تاہم وہ خوش قسمتی سے محفوظ رہیں۔

حامزہ مختار نے بتایا کہ وہ پراپرٹی کے کام کے سلسلے میں کانہ تک آئی تھی اور وہاں سے واپسی پر کچھ ملزمان نے میرا تعاقب شروع کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان نے جیسے ہی ان کے قریب آ کر پستول نکالی تو انہوں نے اپنی گاڑی کی رفتار بڑھا دی جس پر حمہ آوروں نے فائرنگ کردی لیکن میں نیچے جھک گئی۔

حامزہ مختار کا کہنا تھا کہ اس کے بعد مجھے نہیں معلوم کیا ہوا اور اطراف میں دیگر لوگ اور پولیس اکٹھا ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے کافی دنوں سے دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں جس کی میں نے پولیس میں شکایت بھی کی تھی کہ مجھے دھمکی آمیز فون اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔

خاتون نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی کہ وہ ان کے مقدمے کو خود دیکھیں اور انہیں تحفظ فراہم کریں کیونکہ ان کی جان کو بہت خطرہ ہے۔

خاتون نے گزشتہ روز حملے کے خلاف کاہنہ پولیس اسٹیشن میں آن لائن شکایت بھی درج کرائی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔

یاد رہے کہ خاتون نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بابر اعظم پر جنسی تعلقات سمیت سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

خاتون نے ایک عدالت میں ایک علیحدہ درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ قومی کرکٹر بابر اعظم کے اہلخانہ انہیں ہراساں اور دھمکیاں دے رہے ہیں۔

اس درخواست پر عدالت نے ہفتے کو فیصلہ سناتے ہوئے بابر اعظم اور ان کے اہلخانہ کو حامزہ مختار کو ہراساں کرنے سے روک دیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرنے والی خاتون حامزہ مختار نے اندراج مقدمہ کے لیے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

حامزہ مختار نامی خاتون نے سی سی پی او لاہور کو درخواست میں فریق بناتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم بابر نے انہیں شادی کے بہانے 2012 سے مستقل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس دوران وہ حاملہ بھی ہوئیں اور بعدازاں انہوں نے ملزم کی ایما پر اسقاط حمل بھی کروایا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر کے اندراج کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اس سلسلے میں کوئی شکایت درج نہ کی۔

درخواست میں تھانہ نصیر آباد پولیس کو بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے خاتون نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ 2010 میں بابر اعظم نے انہیں پروپوز کیا جسے انہوں نے قبول کر لیا، ہم شادی کا فیصلہ کرچکے تھے لہٰذا ہم نے اپنے خاندانوں کو آگاہ کیا لیکن دونوں کے خاندانوں نے صاف انکار کیا جس کے بعد بابر اعظم اور میں نے کورٹ میرج کا فیصلہ کیا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2011 میں بابر اعظم مجھے کورٹ میرج کا کہہ کر میرے گھر سے بھگا کر لے گیا اور ہم مختلف مقامات پر کرائے کے مکانوں میں قیام پذیر رہے۔

خاتون کا کہنا تھا کہ اصرار کے باوجود بابر اعظم نے ان سے نکاح نہیں کیا اور دعویٰ کیا کہ 2014 سے پہلے نوکری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنا سیلون کھولا جس سے وہ کرکترز کے اخراجات برداشت کرتی رہیں۔

حامزہ نے دعویٰ کیا کہ 2014 میں جب بابر اعظم کا نام پاکستانی کرکٹ ٹیم میں آیا تو ان کا رویہ آہستہ آہستہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا تھا، میں 2016 میں حاملہ ہوگئی تھی جب میں نے بابر اعظم کو بتایا تو سن کر ان کا رویہ بہت عجیب ہوگیا، مجھے مارا پیٹا اور میں ان کے اصرار پر اسقاط حمل پر مجبور ہو گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘بالآخر تنگ آکر 2017 میں، میں نے بابر اعظم کے خلاف پولیس رپورٹ کی اور شکایت دیکھنے والے افسر نے بابر اعظم کو پیش کرنے کا کہا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے لیکن اسی رات بابر اعظم نے اس افسر کے سامنے ہمارے مشروط صلح نامے پر دستخط کروائے تھے، جس میں شرط یہ طے کی گئی تھی کہ بابر مجھ سے شادی کرلیں گے’۔

انہوں نے کہا کہ ’10 روز قبل میں نے ان کے خلاف دوبارہ شکایت درج کروائی، 20 نومبر کو بابراعظم نے بیرون ملک جانے سے قبل مجھے فون کرکے کہا تھا کہ اگر تم پولیس کے پاس گئی یا اب شادی کا مطالبہ کیا تو تم جان سے جاؤ گی اور تمہیں یہ بھی نہیں پتا کہ میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا’۔

حامزہ کا کہنا تھا کہ ’10 سال تک حد سے زیادہ زیادتی کے بعد اب میں یہاں انصاف کے لیے آئی ہوں’۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

عالمی ادارہ صحت کا ویکسین ٹرائلز کیلئے لوگوں کو دانستہ کورونا سے متاثر کرنے پر غور

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسینز کے ٹرائلز میں تیزی لانے کے لیے صحت مند نوجوان رضاکاروں کو دانستہ طور پر کووڈ 19 سے متاثر کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او کی جانب […]
vaccien-wSD