نوواک جوکووچ: لائن جج کو نادانستہ طور پر گیند مارنے پر جوکووچ کو بلامقابلہ شکست، یو ایس اوپن سے باہر

ویب ڈیسک

ٹاپ سیڈ ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ نے امریکہ کے شہر نیویارک میں ہونے والے یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے ایک میچ کے دوران غلطی سے لائن جج کو گیند مارنے پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ’خاتون جج کو تکلیف میں مبتلا کرنے پر انتہائی افسوس ہے۔‘

0 0
Read Time:5 Minute, 22 Second

ٹاپ سیڈ ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ نے امریکہ کے شہر نیویارک میں ہونے والے یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے ایک میچ کے دوران غلطی سے لائن جج کو گیند مارنے پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ’خاتون جج کو تکلیف میں مبتلا کرنے پر انتہائی افسوس ہے۔‘

یاد رہے کہ لائن جج کو گیند مارنے پر نوواک جوکووچ کو میچ سے ڈس کوالیفائی کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ ٹونامنٹ سے باہر ہو گئے تھے۔

سپین کے کھلاڑی پابلو کیرینو بسٹا کے ساتھ میچ کے دوران سرو پوائنٹ ہارنے کے بعد جوکووچ چھ کے مقابلے پانچ پوائنٹ کے خسارے میں تھے اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے یہ عمل کیا۔

سربیا سے تعلق رکھنے والے نوواک جوکووچ نے اپنی جیب سے گیند نکالی اور اسے ریکٹ کی مدد سے پیچھے کی جانب مار دیا۔ ان کے عقب میں موجود ایک خاتون لائن جج کو یہ گیند گردن پر جا کر لگی۔

یہ بھی پڑھیے

راجر فیڈرر: تاریخ کے بہترین ٹینس کھلاڑی

ٹینس کے غیرمعروف ہیروز

رپورٹر کا زبردستی بوسہ لینے پر ٹینس کھلاڑی پر پابندی

طویل بحث کے بعد ٹورنامنٹ کے منتظمین نے فیصلہ کیا کہ انھیں اس میچ میں بلامقابلہ شکست کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے باعث وہ ٹورنامنٹ کا مزید حصہ نہیں رہ پائیں گے۔

اس واقعے سے متعلق اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جوکووچ کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال پر وہ شدید افسردہ ہیں اور خالی پن محسوس کر رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے ٹورنامنٹ انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے جنھوں نے انھیں آگاہ کیا کہ لائن جج اب خیریت سے ہیں۔

’مجھے انھیں (لائن جج) تکلیف میں مبتلا کر دینے پر انتہائی افسوس ہے۔ یہ مکمل طور پر غیر ارادی تھا۔ یہ بہت غلط تھا۔ احترام اور رازداری کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے میں یہاں ان کا نام ظاہر نہیں کر رہا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ کہ اب انھیں واپس جانا چاہیے اور اپنے مایوس رویے پر توجہ دینی چاہیے اور اس پورے معاملے کو ایک کھلاڑی اور ایک انسان کی حیثیت سے اپنی نشونما اور ارتقا کے لیے بطور سبق دیکھنا چاہیے گا۔

گرینڈ سلیم کے قوانین کے مطابق: ’کوئی بھی کھلاڑی کسی بھی موقع پر کسی منتظم، حریف، تماشائی یا ٹورنامنٹ کے دائرہ کار میں موجود کسی بھی فرد کو جسمانی تکلیف نہیں پہنچائے گا۔‘

جوکووچ

‘ایسی صورت میں ریفری کے پاس یہ اختیار ہو گا کہ وہ گرینڈ سلیم چیف آف سپروائزرز سے مشورہ کر کے کھلاڑی کو میچ میں بلامقابلہ شکست دے چاہے یہ اس قانون کی پہلی مرتبہ ہی خلاف ورزی کیوں نہ ہو۔’

کورونا وائرس کی عالمی وبا کی شروعات کے بعد سے یہ ٹینس کا پہلا گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ ہے اور یہ تماشائیوں کے بغیر منعقد کیا گیا ہے۔ جوکووچ اس ٹورنامنٹ کو جیتنے کے لیے فیورٹ تھے۔

ٹینس کی مردوں کی عالمی درجہ بندی میں 20ویں نمبر پر آنے والے کیرینو بسٹا سے مقابلے سے قبل جوکووچ نے سنہ 2020 میں کوئی بھی میچ نہیں ہارا تھا۔ وہ 26 میچوں سے ناقابلِ شکست تھے اور انھوں نے اس سال کے آغاز میں ہونے والا آسلٹریلیئن اوپن بھی جیت رکھا تھا۔

جوکووچ

33 سالہ جوکووچ اگر یہ ٹورنامنٹ جیت جاتے تو یہ ان کی 18ویں گرینڈ سلیم ٹائٹل فتح ہوتی اور وہ رافیل نڈال اور راجر فیڈرر کی ٹائٹل فتوحات کے مزید قریب آ جاتے۔

اس واقعے کے بعد جوکووچ نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کورٹ میں موجود ٹورنامنٹ ریفری سویرین فریمیل اور گرینڈ سلیم سپروائزر آندریاس ایگلی کے ساتھ خاصی لمبی بحث کی۔

تاہم آخر کار انھیں یہ فیصلہ قبول کرتے ہوئے مخالف کھلاڑی کیرینو بسٹا سے ہاتھ ملا کر اپنی شکست تسلیم کرنی پڑی۔ کیرینو اس ساری صورتحال میں اپنی کرسی پر بیٹھے انتظار کرتے رہے اور خاصے حیرت زدہ دکھائی دیے۔

جوکووچ پریس کانفرنس کیے بغیر ہی فلشنگ میڈوز سے واپس چلے گئے۔

یہ کسی گیند اٹھانے والے بچے کو بھی لگ سکتی تھی‘

میچ کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیرینو بسٹا نے کہا کہ ‘میں نے وہ لمحہ نہیں دیکھا، اس وقت میں اپنے کوچ کی جانب دیکھ رہا تھا اور پوائنٹ جیتنے پر خوشی کا اظہار کر رہا تھا اور تب میں نے لائن جج کو زمین پر پڑے دیکھا اور میں دھچکا لگا۔

‘جب یہ سب نیٹ کے قریب کھڑے بحث کر رہے تھے تو میری ساری توجہ اس بات پر مرکوز تھی کہ اگر مجھے دوبارہ کھیلنا پڑے تو مجھے فوکس نہیں کھونا۔ یہ انتظار خاصا طویل تھا۔ آخر کار نوواک نے مجھ سے ہاتھ ملا لیا۔

’میرے نزدیک یہ عمل نادانستگی میں ہوا۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا دانستہ طور پر کر سکتا ہے۔ یہ بس اس لمحہ کی بات ہوتی ہے۔ یہ بدقسمت واقعہ ہے۔‘

‘ظاہر ہے آپ یہ نہیں کر سکتے۔ قوانین اپنی جگہ موجود ہیں۔ ریفری اور سپروائزر نے صحیح فیصلہ کیا لیکن ایسے فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتا ہے۔

برطانیہ کے ڈیوس کپ کپتان لیون سمتھ نے بی بی سی ریڈیو 5 لائیو سپورٹس ایکسٹرا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک عادت بن جاتی ہے۔ انھوں نے یہ پانچ منٹ پہلے بھی کیا تھا، اور زیادہ طاقت سے کیا تھا لیکن وہ خوش قسمت تھے کہ گیند تشہیری بورڈ پر لگی۔ یہ کسی گیند اٹھانے والے بچے کو بھی لگ سکتی تھی۔

18 مرتبہ کی گرینڈ سلیم سنگلز چیمپیئن مارٹینا ناوراتیلووا نے کہا کہ ‘امریکہ کے کورٹ پر ہونے والے اس واقعے کے بارے میں سن کر مجھے یقین نہیں آ رہا۔ نوواک جوکووچ کو نادانستہ طور پر لائن جج کو گلے پر گیند مارنے پر بلامقابلہ شکست کا سامنا کرنا پڑا اور حکام کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور آپشن بھی نہیں تھا۔’

‘مجھے خوشی ہے کہ خاتون خیریت سے ہیں۔ ہمیں اس سے بہتر رویہ اختیار کرنا چاہیے۔’

بی بی سی کے کمنٹیٹر اور دو مرتبہ کے یو ایس اوپن چیمپیئن ٹریسی آسٹن کہتے ہیں ‘یہ صحیح فیصلہ تھا! اس پورے واقعے کو ہوتے دیکھنا انتہائی دلچسپ تھا۔ مجھے امید ہے کہ لائن جج خیریت سے ہیں۔

10 مرتبہ گرینڈ سلیم سنگلز ٹائٹل جیتنے والے بلی جیئن کنگ نے کہا کہ ‘قائدہ اپنی جگہ ہے۔ یہ اس واقعے سے منسلک ہر فرد کے لیے بدقسمتی کی بات ہے لیکن اس صورتحال میں بلامقابلہ شکست کی سزا ہی صحیح فیصلہ ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

وزیر اعظم کا 12 ستمبر سے بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے اعلان کا خیر مقدم

وزیراعظم عمران خان نے 12 ستمبر 2020 سے بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
Pm-imran-khan-wSD