ڈینیئل پرل کیس: سپریم کورٹ نے ملزمان کو رہا کرنے سے روک دیا

ویب ڈیسک

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت سندھ کو امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں ملوث ملزمان کو رہا کرنے سے روک دیا ہے۔

0 0
Read Time:5 Minute, 51 Second

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت سندھ کو امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں ملوث ملزمان کو رہا کرنے سے روک دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جنرل ساؤتھ ایشیا کے بیورو چیف ڈینیئل پرل کے والدین کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ نے دو اپریل کو سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے مرکزی ملزم احمد عمر سعید کی سزائے موت کو 7سال قید اور 20لاکھ جرمانے میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کی تھیں۔

18سال سال قید میں گزارنے والے عمر سعید کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے امریکی صحافی کے قتل کے جرم میں عمر سعید کو سزئے موت دی تھی لیکن سندھ ہائی کورٹ کی جانب ان کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور اس لحاظ سے وہ پہلے ہی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔

البتہ حکومت سندھ نے ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس کے تحت قتل کے الزام میں قید عمر سعید اور دیگر چار ملزمان کو 30ستمبر تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔

آج ہونے والی سماعت میں سینئر وکیل فاروق نائیک نے حکومت سندھ کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ شناخت پریڈ میں ٹیکسی ڈرائیور ناصر عباس نے مجسٹریٹ کے سامنے ملزم کو نشاخت کر لیا تھا۔

عمر سعید کو 13جنوری 2002 کو گرفتار کیا گیا تھا اور 22اپریل 2002 کو ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے میں کُل 23 گواہان تھے، اکبر انٹرنیشنل ہوٹل جہاں عمر سعید اور ڈینیئل پرل نے ملاقات کی تھی، وہاں کے ریسیپشنسٹ عامر افضل نے بھی شناخت پریڈ میں ملزم کو شناخت کر لیا۔

جب عدالت نے پوچھا کہ یہ سازش کہاں تیار ہوئی تو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پس پردہ کئی ساری چیزیں چل رہی تھیں، جب عمر سعید امریکی صحافی سے ملے تو انہوں نے اپنا نام بشیر بتایا اور انہوں نے اپنا نام غلط بتایا کیونکہ ان کے ارادے درست نہیں تھے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ یہ ممکن ہے کہ قتل کرنے کا فیصلہ واردات سے محض چند لمحے قبل کیا گیا ہو جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ صحافی کو قتل کرنے کے بجائے ابتدائی منصوبہ تاوان لینے کا تھا۔

عدالت نے سوال کیا کہ ملزم پر جرم کیسے ثابت ہوا جبکہ نہ ہی کبھی لاش ملی اور نہ ہی پوسٹ مارٹم کیا گیا جس پر حکومت سندھ کے وکیل نے جواب دیا کہ اغواکے الزامات ثابت ہو گئے تھے اور سندھ ہائی کورٹ سزائے موت کی سزا میں تبدیلی کے بجائے دوبارہ ٹرائل کا حکم دے۔

جب عدالت نے پوچھا کہ ملزم کو کس نے شناخت کیا تو فاروق ایچ نائیک نے بتاہا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے انہیں شناختی پیریڈ میں پہچان لیا تھا۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ٹیکسی ڈرائیور کا بیان حکومت کے اس مقدمے کی بنیاد ہے، ان کی لاش کبھی نہیں ملی تو ٹیکسی ڈرائیور نے ڈینیئل پرل کو کیسے شناخت کیا؟۔

اس پر سندھ حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے ڈینیئل پرل کی تصویر دیکھ کر انہیں شناخت کیا تھا۔

جسٹس امین نے مزید کہا کہ ملزم کو قتل اور اغوا برائے تاوان کے الزام سے بری کردیا گیا تھا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہائی کورٹ نے اغوا کی سزا دے کر معاملہ نمٹا دیا تھا۔

عدالت نے حکام کو ملزمان کو رہا کرنے سے روکتے ہوئے مقدمے کی سماعت ملتوی کردی۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے 15ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی سندھ حکومت کی درخواست مسترد کری تھی۔

واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے ڈینیئل پرل کیس میں 2 اپریل 2020 کو امریکی صحافی کے قتل میں نامزد 3 ملزمان کی رہائی کا حکم دیا تھا اور ایک ملزم احمد عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

بعدازاں 29 اپریل کو حکومت سندھ نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے لیے پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے تین درخواستیں دائر کی تھی جن میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور ملزمان کی سزائیں بحال کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

تاہم عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ فیصلہ معطل کرنے کے لیے دائر کردہ درخواست میں غیر متعلقہ دفعات کا حوالہ دیا گیا۔

ڈینیئل پرل قتل کیس

یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

بعد ازاں حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور مارچ میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 2 اپریل کو سنایا گیا۔

عدالت نے مقدمے میں نامزد 4 ملزمان کی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کی درخواست

واضح رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وال اسٹریٹ جنرل کے صحافی کی قتل کی ویڈیو کی ایک سرکاری عہدیدار (پی ٹی وی کے ایک ماہر) سے تصدیق کروائی گئی تھی جبکہ اسے کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔

چنانچہ جمع شدہ ثبوتوں اور خاص کر ملزم اور شریک ملزمان کے اعترافی بیانات کے تناظر میں ہائی کورٹ کی جانب سے سزا میں تبدیلی اور بریت پائیدار نہیں اور اسے کالعدم ہونا چاہیے۔

اسی طرح فطری اور آزاد شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تاوان کا مطالبہ ملزم نے ہی کیا تھا اور ڈاکیومینٹری ثبوت سے یہ بات ثابت بھی ہوئی چنانچہ سزا میں تبدیلی اور بریت غیر قانونی ہے۔

اپیل میں کہا گیا تھا کہ ملزم ایسا کوئی مواد پیش نہیں کرسکا جو پروسیکیوشن کے ثبوتوں کے خلاف شک پیدا کرتا بلکہ شریک ملزمان نے ریمانڈ کے دوران ٹرائل جج کے سامنے اپنا جرم قبول کیا۔

عدالت عظمیٰ میں دائر اپیل میں کہا گیا تھا کہ ہائی کورٹ اس کیس کے سنگین عوامل سمجھنے میں ناکام رہی جبکہ ملزم اور شریک ملزمان کی بریت اور سزائے موت میں تبدیلی کا فیصلہ انصاف کا قتل اور عدالت عظمیٰ کے طے کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

آزاد پریس جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے معاشرے میں میڈیا کی آزادی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آزاد اور توانا میڈیا جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
Justice-Qazi-Faiz-Issa-wSD