فیس بک کی متنازع کرپٹوکرنسی کا نام بدل دیا گیا

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:2 Minute, 19 Second

فیس بک نے اپنی ڈیجیٹل کرنسی لبرا کا نام بدل کر ڈائم رکھ دیا ہے جس کا مقصد ادارہ جاتی خودمختاری کا دوبارہ نفاذ کرنا ہے، تا

کہ اس منصوبے کے لیے ریگولیٹری منظوری حاصل کی جاسکے۔

ادارے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیا نام لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب دن ہوتا ہے۔

ڈائم ایسوسی ایشن کے سی ای او اسٹیورٹ لیوی نے بتایا کہ اس نام سے پراجیکٹ کے باشعور اور خودمختار ہونے کی عکاسی ہوتی ہے۔

یہ واضح نہیں کہ یہ نیا نام کس طرح پراجیکٹ کی خودمختاری کو ظاہر کرتا ہے۔

خیال رہے کہ فیس بک نے اپنی ڈیجیٹل کرنسی لبرا کا اعلان گزشتہ سال جون میں کیا تھا، مگر صارفین کے لیے پیش کرنے کے حوالے سے متعدد رکاوٹیں سامنے آئیں۔

گزشتہ ہفتے فنانشنل ٹائمز نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ فیس بک کی جانب سے اس پراجیکٹ کو جنوری 2021 میں متعارف کرایا جارہا ہے مگر اس کو پہلے کے مقابلے میں محدود کردیا گیا ہے۔

فیس بک کی جانب سے لبرا کو متعدد ڈیجیٹل سکوں کی شکل میں متعارف کرایا جانا تھا جو مختلف کرنسیوں جیسے امریکی ڈالر کی نمائندگی کرتے، جبکہ ایک سکے کو تمام کرنسیوں کا امتزاج قرار دیا جاتا۔

مگر اب فیس بک کی جانب سے امریکی ڈالرز والی ڈیجیٹل کرنسی پیش کی جارہی ہے اور دیگر کرنسیوں کو بعد میں کسی وقت اس پراجیکٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔

بنیادی طور پر یہ فیس بک کی کرپٹو کرنسی نہیں بلکہ یہ ڈائم ایسوسی ایشن کا منصوبہ ہے، جس میں فیس بک شریک بانی ہے اور پہلے اس کا نام لبرا ایسوسی ایشن تھا۔

یہ ایسوسی ایشن ایک مالیاتی اتھارٹی کے طور پر کام کرے گی اور اس منصوبے کا مقصد اربوں افراد کو ترقی میں مدد دینا ہے۔

فیس بک کو ڈجیٹل کیش میں زیادہ دلچسپی ہے اور کمپنی کے بانی مارک زکربرگ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ مستقبل قریب آن لائن قسم بھیجنا آسان ہوگا جیسے کوئی تصویر بھیجنا۔

ڈائم کو بھی اسی مقصد کے لیے ڈیززائن کیا گیا ہے جس سے لوگوں کو آن لائن رقوم منتقل کرنے میں مدد مل سکے جبکہ اس کی مقبولیت سے فیس بک کے صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔

مگر مارک زکربرگ نے اعتراف کیا کہ لوگوں کی جانب سے کرپٹوکرنسی کو استعمال کرنے سے فیس بک کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ وہ اشتہارات کو زیادہ استعمال کرسکے گی۔

ڈائم کے متعدد اراکین ہیں اور فیس بک بھی ان میں سے ایک ہے، ہر رکن کا ایسوسی ایشن میں ایک ووٹ ہے اورر اس کا ہیڈکوارٹر سوئٹزرلینڈ میں ہے۔

اس ایسوسی ایشن کے متعدد بانی اراکین اب تک منصوبے سے الگ ہوچکے ہیں جن میں پے پال، ای بے، اسٹراپ، ویزا اور ماسٹر کارڈ شامل ہیں۔

اس وقت ایسوسی ایشن کے مجموعی طور پر 27 اراکین ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پی آئی اے کے لیے 8 طیارے لیز پر لینے کا فیصلہ

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے 8 ہوائی جہاز لیز پر لینے کا فیصلہ کرلیا۔ نئے جہاز لیز پر لینے کا فیصلہ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایئر مارشل ارشد ملک کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر […]
pia-wSD