سندھ بھر میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق

ویب ڈیسک

کراچی سمیت سندھ بھر میں مون سون کے چھٹے اسپیل کے دوسرے دن تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا جبکہ کرنٹ لگنے سے 17 سالہ لڑکا اور پانی کے جوہڑ میں گرنے سے بچہ جاں بحق ہوگیا۔

0 0
Read Time:6 Minute, 6 Second

کراچی سمیت سندھ بھر میں مون سون کے چھٹے اسپیل کے دوسرے دن تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا جبکہ کرنٹ لگنے سے 17 سالہ لڑکا اور پانی کے جوہڑ میں گرنے سے بچہ جاں بحق ہوگیا۔

سندھ کے کئی علاقوں میں گزشتہ روز سے ہی مسلسل بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث حیدرآباد، میر پور خاص، ٹنڈو محمد خان، سجاول میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، عمر کوٹ میں کپاس اور مرچوں کی فصل متاثر ہوگئی۔

کراچی میں شادمان، لانڈھی، کورنگی، ملیر، ڈیفنس، عائشہ منزل، ناظم آباد، گلشن اقبال، لیاری میں سڑکیں دریا کے مناظر پیش کرنے لگیں شاہراہ فیصل پر گاڑیاں بند ہونے سے لوگ شدید اذیت کا شکار ہوئے۔

دوسری جانب کئی علاقوں میں نالے اور گٹر بل پڑے جبکہ پی ای ایس ایچ، نرسری اور ملحقہ علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔

صدر، ٹاور، کے اطراف

کے علاقوں میں دفاتر اور دکانوں میں پانی بھر گیا، سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی اور اطراف کے علاقوں میں 3 سے 4 فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ بارش کے باعث ملیر ندی میں طغیانی کے باعث کورنگی کازوے روڈ بند ہوگیا۔

اس کے علاوہ کراچی کے بڑے ہسپتالوں آغا خان، ضیاالدین (ناظم آباد) میں بھی پانی جمع ہوگیا جس کی وجہ سے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

گلستان جوہر میں لینڈ سلائیڈنگ

ایس ایس پی ایسٹ ساجد امیر سدوزئی نے بتایا کہ گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب پہاڑی تودہ گرنے سے متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں تباہ ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ حادثے میں کسی کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

بارش کے باعث ہلاکتیں

کراچی کے علاقے مشرف کالونی 500 کواٹر کے قریب پانی کے جوہڑ میں گر کر 13 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا، ایدھی کے رضاکارو ں نے لاش نکال کر مرشد ہسپتال میں منتقل کردی۔

دوسرے حادثے می پاک کالونی کے محلہ ہارون آباد میں کرنٹ لگنے سے 17 سالہ محمد آصف جاں بحق ہوگیا۔

کراچی میں کہاں کتنی بارش ہوئی؟

کراچی میں صبح سویرے ہی بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور چار گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ گلشن حدید میں 72 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق ناظم آباد میں 51.6 ملی میٹر، سرجانی ٹاؤن میں 25.6 ملی میٹر، لانڈھی میں 11.5،پی اے ایف بیس فیصل میں 11 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

اس کے علاوہ جناح ٹرمینل پر9.6، مسرور بیس پر 7 ملی میٹر، یونیورسٹی روڈ پر 8.8 ملی میٹر، اولڈ ایئرپورٹ پر5.7 ملی میٹر اور کیماڑی میں 4.5 بارش ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران صوبہ سندھ کے ضلع میر پور خاص میں 162 ملی میٹر اور کراچی میں گلشن حدید میں سب سے زیادہ 115 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی جو صوبے کے دیگر اضلاع کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

محکمے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق مٹھی میں 135، چھاچھرو میں 133، حیدرآباد میں 109، بدین میں 93، ٹنڈو جام میں 72 ملی میٹر بارش ہوئی۔

شہر میں بجلی فراہمی کی صورتحال

بارش کے آغاز کے ساتھ ہی متعدد علاقوں میں بجلی بند ہوگئی جس سے ایک اندازے کے مطابق شہر کا 30 فیصد حصہ بجلی سے محروم ہوگیا۔

ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق کراچی میں رات گئے ہلکی بارش شروع ہو تے ہی کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل اور پانی کی سطح میں بتدریج اضافہ کے باعث کچھ مقامات پر حفاظتی طور پر بجلی بند کی گئی ہے۔

گلشن، گلستان جوہر، سوسائٹی اور بن قاسم میں بجلی کی تنصیبات میں پانی داخل ہوچکا ہے جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہونے اور سیلابی صورتحال کے دوران بجلی بحال کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ نہایت مشکل صورتحال میں کے الیکٹرک انتظامیہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہےکھڑے پانی کی نکاسی کے ساتھ کے الیکٹرک کی ٹیمیں بجلی کی بحالی کے عمل کو تیزی سے سر انجام دے سکتی ہیں

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ملیر کے متعدد علاقوں میں صبح سے ہی بجلی غائب ہوگئی جبکہ گارڈن، ناظم آباد، نیوکراچی، سخی حسن، نارتھ کراچی، گلشن حدید میں طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ تاحال جارہی ہے۔

دوسری جانب ترجمان کے الیکٹرک نے عوام سے کہا تھا کہ وہ بارش کی صورت میں احتیاط کریں اور شہری ٹوٹے ہوئے تاروں، بجلی کے کھمبوں اور پی ایم ٹیز سے دور رہیں۔

ترجمان نے کہا تھا کہ غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول جان لیوا ہے اور بارش اور کھڑے پانی میں پانی کی موٹر جیسے برقی آلات کا غیر محفوظ استعمال حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔

شہر میں گزشتہ مون سون بارشیں

خیال رہے کہ گزشتہ روز 24 اگست کو بھی تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش میں مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں مون سون کے پانچویں اسپیل کا آغاز 21 اگست کو ہوا تھا جس کے دوران مختلف حادثات کے نتیجے میں 7 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

پانچویں اسپیل کی بارشوں کے باعث کراچی کے علاقے خصوصاً نیو کراچی سمیت متعدد نشیبی علاقوں میں موجود بارش کا پانی نہیں نکلا جا سکا تھا کہ چھٹے اسپیل کی طوفانی بارش کے باعث صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ 21 اگست کے روز سب سے زیادہ 185.7 ملی میٹر بارش کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ہوئی تھی جہاں متعدد علاقوں میں گھروں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے مکینوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

ان علاقوں میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ یوسف گوٹھ ہے جہاں حکومت، پاک فوج اور دیگر فلاحی تنظیموں کی امدادی کارروائیاں کیں تاہم ان علاقوں سے اب تک پانی مکمل طور پر نہیں نکالا جاسکا۔

اس سے قبل رواں ماہ 6 سے 9 تاریخ تک شہر میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تھی جبکہ گزشتہ ماہ کے اوائل سے آخر تک شہر قائد نے 3 مون سون کے اسپیل دیکھے تھے، جس میں شہریوں کو انتظامی عدم توجہی کے باعث سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رواں ماہ کے شروع میں ہونے والی بارشوں میں شہر کے بیشتر علاقے زیر آب آگئے تھے جبکہ شہر کے کچھ نالوں کی صفائی ہونے کے باعث صورتحال گزشتہ ماہ سے کچھ حد تک بہتر نظر آئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں ہونے والی بارش کے باعث شہر کے بیشتر علاقے نالوں کی صفائی نہ ہونے اور نالے بپھرنے کی وجہ سے زیر آب آگئے جس کے باعث لوگوں کے لیے باران رحمت، زحمت میں تبدیل ہوگئی تھی۔

یہی نہیں بلکہ ان بارشوں کے دوران 2 درجن سے زائد افراد کرنٹ لگنے اور مختلف حادثات میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔

بارشوں کے بعد سامنے آنے والی شہر کی صورتحال پر سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر تنقید کی اور وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو اس سب کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پنجاب: خاتون وکیل کے مبینہ اغوا کی تحقیقات کیلئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل

وکاڑہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عمر سعید ملک نے ضلع اوکاڑہ کے دیپالپور شہر میں خاتون وکیل کے مبینہ اغوا کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی اعلی سطح کی تفتیشی ٹیم تشکیل دی ہے۔
Female-lawyer-wSD