سندھ بھر میں موسلادھار بارش، کراچی میں مختلف حادثات میں 2 جاں بحق

ویب ڈیسک

صوبہ سندھ میں مون سون کے چھٹے اسپیل کے دوسرے دن تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش سے معمولات زندگی بہتر طرح متاثر ہوگئی جبکہ کرنٹ لگنے 17 سالہ لڑکا اور پانی کے جوہڑ میں گرنے سے بچہ جاں بحق ہوگیا۔

0 0
Read Time:4 Minute, 45 Second

صوبہ سندھ میں مون سون کے چھٹے اسپیل کے دوسرے دن تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش سے معمولات زندگی بہتر طرح متاثر ہوگئی جبکہ کرنٹ لگنے 17 سالہ لڑکا اور پانی کے جوہڑ میں گرنے سے بچہ جاں بحق ہوگیا۔

علاوہ ازیں کراچی کے متعدد علاقوں میں حسب دستور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جارہی رہا۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق مشرف کالونی 500 کواٹر کے قریب پانی کے جوہڑ میں گر کر 13 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔

ایدھی کے رضاکارو ں نے لاش نکال کر مرشد ہسپتال میں منتقل کردی۔

دوسرے حادثے می پاک کالونی کے محلہ ہارون آباد میں کرنٹ لگنے سے 17 سالہ محمد آصف جاں بحق ہوگیا۔

گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب لینڈ سلائیڈنگ

ایس ایس پی ایسٹ ساجد امیر سدوزئی نے بتایا کہ گلشتان جوہر منور چورنگی کے قریب لینڈ سلائیڈنگ سے متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں تباہ ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ حادثے میں ابھی تک کسی کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران صوبہ سندھ کے ضلع میر پور خاص اور کراچی میں گلشن حدید میں بالترتیب 162 ملی میٹر اور 115 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو صوبے کے دیگر اضلاع کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

محکمے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق مٹھی، چھاچھرو، حیدرآباد، بدین، ٹنڈو جام، ٹھٹہ میں بالترتیب 135، 133، 109، 93 اور 72 ملی میٹر بارش ہوئی۔

علاوہ ازیں سندھ کے دارالحکومت کراچی کے مختلف علاقوں لانڈھی میں 32، فیصل بیس پر 13، جناح ٹرمینل (اولڈ ایریا) میں 11، سادی ٹاؤن میں 10، یونیورسٹی روڈ میں 8، بیس مسرور میں 7، صدر میں 5، نارتھ کراچی میں 4، سرجانی میں 3 اور ناظم آباد میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

کراچی میں بارش کے باعث ملیر ندی میں طغیانی کے باعث کورنگی کازوے روڈ بند ہوگیا۔

بارش کے آغاز کے ساتھ ہی متعدد علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں ہیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ملیر کے متعدد علاقوں میں صبح سے ہی بجلی غائب ہوگئی جبکہ گارڈن، ناظم آباد، نیوکراچی، سخی حسن، نارتھ کراچی، گلشن حدید میں طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ تاحال جارہی ہے۔

واضح رہے کہ پانچویں اسپیل کی بارشوں کے باعث کراچی کے علاقے خصوصاً نیو کراچی سمیت متعدد نشیبی علاقوں میں موجود بارش کا پانی نہیں نکلا جا سکا تھا کہ چھٹے اسپیل کی طوفانی بارش کے باعث صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے۔

اس ضمن میں املاک اور جانی نقصان کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش میں مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

محکمہ موسمیات نے پیر (گزشتہ روز) سے جمعرات (27 اگست) تک کراچی سمیت سندھ کے مختلف حصوں میں طوفانی بارشوں کا امکان ظاہر کیا تھا۔

محکمہ موسمیات کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ سندھ اور بھارتی ریاست راجستھان میں موجود بارشوں کے نظام اور بحیرہ عرب میں موجود نمی سے طوفانی بارشوں کا امکان ہے۔

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے کراچی میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں 100 سے 150ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا تھا۔

واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں مون سون کے پانچویں اسپیل کا آغاز 21 اگست کو ہوا تھا جس کے دوران مختلف حادثات کے نتیجے میں 7 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ 21 اگست کے روز سب سے زیادہ 185.7 ملی میٹر بارش کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ہوئی تھی جہاں متعدد علاقوں میں گھروں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے مکینوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

ان علاقوں میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ یوسف گوٹھ ہے جہاں حکومت، پاک فوج اور دیگر فلاحی تنظیموں کی امدادی کارروائیاں کیں تاہم ان علاقوں سے اب تک پانی مکمل طور پر نہیں نکالا جاسکا۔

دوسری جانب ترجمان کے الیکٹرک نے عوام سے کہا تھا کہ وہ بارش کی صورت میں احتیاط کریں اور شہری ٹوٹے ہوئے تاروں، بجلی کے کھمبوں اور پی ایم ٹیز سے دور رہیں۔

ترجمان نے کہا تھا کہ غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول جان لیوا ہے اور بارش اور کھڑے پانی میں پانی کی موٹر جیسے برقی آلات کا غیر محفوظ استعمال حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔

اس سے قبل رواں ماہ 6 سے 9 تاریخ تک شہر میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تھی جبکہ گزشتہ ماہ کے اوائل سے آخر تک شہر قائد نے 3 مون سون کے اسپیل دیکھے تھے، جس میں شہریوں کو انتظامی عدم توجہی کے باعث سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رواں ماہ کے شروع میں ہونے والی بارشوں میں شہر کے بیشتر علاقے زیر آب آگئے تھے جبکہ شہر کے کچھ نالوں کی صفائی ہونے کے باعث صورتحال گزشتہ ماہ سے کچھ حد تک بہتر نظر آئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں ہونے والی بارش کے باعث شہر کے بیشتر علاقے نالوں کی صفائی نہ ہونے اور نالے بپھرنے کی وجہ سے زیر آب آگئے جس کے باعث لوگوں کے لیے باران رحمت، زحمت میں تبدیل ہوگئی تھی۔

یہی نہیں بلکہ ان بارشوں کے دوران 2 درجن سے زائد افراد کرنٹ لگنے اور مختلف حادثات میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔

بارشوں کے بعد سامنے آنے والی شہر کی صورتحال پر سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر تنقید کی اور وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو اس سب کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پنجاب میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ

لاہور: صحت ماہرین نے ایک بار پھر پنجاب میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے بارے میں خبردار کیا ہے کیونکہ محرم کے دوران احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔
CORONAVIRUS-wSD