ٹرمپ-جو بائیڈن کا پہلا مباحثہ، ایک دوسرے پر ذاتی حملے

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:4 Minute, 2 Second

ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن کے درمیان ٹرمپ قیادت میں کورونا وائرس، معیشت اور سالمیت کے حوالے سے پالیسیز پر زبردست مقابلہ دیکھا گیا جس میں ذاتی توہین، ایک دوسرے کو مختلف ناموں سے پکارنا اور ٹرمپ کی بار بار دخل اندازی دیکھی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ماڈریٹر کرس والیس بحث کا کنٹرول قائم کرنے میں ناکام نظر آئے۔

وائٹ ہاؤس کے دونوں دعویداروں نے ایک دوسرے کے خلاف باتیں کیں اور توہین بھی کی جس کی وجہ سے کسی بھی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہوگیا۔

مباحثے کے پہلے حصے میں سپریم کورٹ کے حوالے سے گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار مداخلت سے پریشان جو بائیڈن نے ایک موقع پر کہا ‘کیا تم اپنی بکواس بند رکھے گے؟ یہ بالکل غیر صدارتی ہے’۔

بعد ازاں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی صدر ولادمیر پیوٹن کا حوالہ دیتے ہوئے ‘پیوٹن کا کتا’، مسخرا، نسل پرست’ کہا اور کہا کہ یہ ‘تم امریکا کے اب تک کے سب سے بدترین صدر ہو’۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘جو، تم میں بالکل ہوشیاری نہیں ہے’۔

بحث کے آخر میں کرس والیس نے خود صدر سے اپیل کی کہ وہ دخل اندازی بند کریں۔

انہوں نے کہا کہ ‘میرا خیال ہے کہ اگر ہم دونوں لوگوں کو کم مداخلتوں کے ساتھ بولنے کی اجازت دیتے تو ملک کی بہتر خدمت ہوگی، میں آپ سے اپیل کر رہا ہوں کہ جناب ایسا کریں’۔

ٹرمپ نے جواب دیا ‘ٹھیک ہے، اور یہ بھی ایسا کرے’۔

کرس والیس نے کہا کہ ‘مگر آپ آپ زیادہ مداخلت کرتے رہے ہیں’۔

ٹرمپ نے جواب دیا ‘مگر یہ بہت کرتا ہے’۔

واضح رہے کہ 77 سالہ جو بائیڈن کو قومی رائے شماری میں 74 سالہ ٹرمپ پر مستقل برتری حاصل رہی ہے حالانکہ سروے میں کہا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان نتائج بہت قریب قریب ہوں گے۔

اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ اس بحث سے انتخابات پر کیا اثر پڑے گا۔

بائیڈن نے کوروناوائرس کے بارے میں ٹرمپ کی قیادت پر سوال کیا جس کی وجہ سے امریکا میں 2 لاکھ سے زائد امریکی ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ گھبرا گئے تھے اور امریکیوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے کیونکہ وہ معیشت کے بارے میں زیادہ فکر مند تھے۔

انہوں نے کہا کہ ‘وہ گھبراگئے یا انہوں نے اسٹاک مارکیٹ کی جانب ہی دیکھا’۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ‘بہت سے لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور مزید ہوں گے جب تک یہ ذہانت کا استعمال نہیں کرتے اور جلد اقدام نہیں کرتے’۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن کے ‘ذبین’ لفظ کے استعمال پر اعتراض کیا اور کہا کہ ‘یا تو تم نے تعلیم سب سے کم مارکس لے کر حاصل کی یا اپنی کلاس میں سب سے کم نمبر کے برابر لیے تھے، ذہانت کا لفظ میرے سامنے کبھی نہ لینا، کبھی بھی یہ لفظ استعمال نہ کرنا’۔

انہوں نے وبا کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کا دفاع کیا اور کہا کہ ‘ہم نے بہت زبردست کام کیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘لیکن میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں جو، جو کام ہم نے کیا ہے وہ تم کبھی نہیں کرسکتے تھے، یہ تمہارے خون میں ہی نہیں ہے’۔

ٹرمپ کا سپریم کورٹ میں تقرری کا دفاع

ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ کی ایک نشست پر تیزی سے تقرری کی اپنی کوشش کا دفاع کرتے ہوئے کہا ‘انتخابات کے اثرات ہوتے ہیں’ اور ڈیموکریٹس کے اعتراضات کے باوجود انہیں اس کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے قدامت پسند جج ایمی کونے بیرٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں آپ کو آسان الفاظ میں سمجھاتا ہوں کہ ہم نے انتخابات جیتا، انتخابات کے کچھ اثرات ہوتے ہیں، ہمارے پاس سینیٹ ہے اور ہمارے پاس وائٹ ہاؤس ہے اور ہمارے پاس ایک غیر معمولی نامزد امیدوار ہے جس کا سبھی احترام کرتے ہیں’۔

جو بائیڈن نے کہا کہ رتھ بیڈر جنسبرگ مرحوم کی نشست پر انتخابات کے بعد تقرری ہونی چاہیے جب یہ واضح ہوجائے کہ صدر کون ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں انتظار کرنا چاہیے، ہمیں انتظار کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اس انتخابات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے کیونکہ زیادہ قدامت پسند سپریم کورٹ سے اوباما کیئر کے نام سے مشہور سستے فلاحی ایکٹ کو خطرہ ہوگا’۔

اس مباحثے سے چند گھنٹوں قبل جو بائیڈن نے اپنے 2019 کے ٹیکس گوشوارے بھی جاری کیے اور ان کی انتخابی مہم نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا، جو اپنی ٹیکس ریٹرنز کو جاری نہ کرنے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کر رہے ہیں کہ وہ بھی ایسا کریں۔

بائیڈن نے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا جب نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 اور 2017 میں فیڈرل انکم ٹیکس میں صرف 750 ڈالر کی ادائیگی کی تھی اور گزشتہ 15 میں 100 سالوں میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

نواز شریف حکومت اور عوام کو دھوکا دےکر گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ملزم (نواز شریف) حکومت اورعوام کو دھوکا دے کر گیا ہے، ملزم لندن میں بیٹھ کر حکومت اور عوام پر ہنستا ہوگا، نہایت شرمندگی کا مقام ہے۔
nawaz-sharif-wSD