جنگِ عظیم دوم کا بم ناکارہ بنانے کے دوران سمندر میں تباہی

ویب ڈیسک

جنگ عظیم دوم کا 5400 کلو وزنی بم بحیرہ بالٹک میں ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران ہی تباہ ہوگیا لیکن کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

0 0
Read Time:2 Minute, 27 Second

جنگ عظیم دوم کا 5400 کلو وزنی بم بحیرہ بالٹک میں ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران ہی تباہ ہوگیا لیکن کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق اس ڈیوائس کو 1945 میں رائل ایئرفورس نازی وارشپ پر حملے کے دوران گرایا تھا جسے ’ٹال بوائے‘ کا نام دیا گیا تھا اور یہ ’ارتھ کوئیک بم’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

یہ بم گزشتہ برس شمال مغربی پولینڈ میں واقع ساحلی شہر سوینوجسی کے قریب دریافت ہوا تھا جو 12 میٹر گہرائی میں دبا ہوا تھا۔

6 میٹر سے زائد طویل اس بم میں 2.4 ٹن دھماکا خیز مواد موجود تھا جو تقریباً 3.6 ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہے۔

اس حوالے سے پولش نیوی نے کہا کہ انہوں نے پہلے کنٹرول شدہ دھماکے کا روایتی آپشن اختیار کرنے کا سوچا تھا لیکن 500 میٹر کے فاصلے پر واقع پُل کو نقصان کے خوف سے ایسا نہیں کیا تھا۔

—فوٹو: اے ایف پی

اس کے بجائے انہوں نے ڈیفلیگریشن کی تکنیک کے استعمال کا ارادہ کیا جس میں ایک ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے استعمال سے کسی دھماکے کے بغیر دھماکا خیز مواد کو جلایا جانا تھا۔

تاہم پولش نیوی کے ترجمان نے کہا کہ آخر میں ڈیفلیگریشن کا عمل، دھماکے میں تبدیل ہوگیا۔

انہوں نےکہا کہ اس عمل میں براہ راست شامل افراد کو کوئی خطرہ نہیں ہوا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ بم ناکارہ ہوگیا۔

سوینوجسی سٹی ہال کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں ملٹری غوط غوروں کے آپریشن کے دوران کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہوئی نہ ہی شہر کے انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان پہنچا۔

رواں ہفتے آپریشن کے آغاز سے قبل بم کے مقام سے قریبی علاقوں میں موجود سیکڑوں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔

ترجمان نے اسے ایک انتہائی نازک کام قرار دیا تھا کہ ایک ذرا سی وائبریشن سے بھی بم پھٹ سکتا تھا۔

علاوہ ازیں بم کو ناکارہ بنانے کے آپریشن کے دوران 16 کلومیٹرکے علاقے میں میری ٹائم ٹریفک بھی معطل کردی گئی تھی۔

— فوٹو:رائٹرز
— فوٹو:رائٹرز

تاریخ دان پیوٹر لاسکوسکی نے اپریل 1945 میں جرمن کروزر پر رائل ایئر فورس کے چھاپے سے متعلق کتاب میں لکھا ہے کہ جنگ عظیم دوم کے دوران سوینوجسی اس وقت جرمنی کا حصہ تھا جہاں جرمن نیوی کے اہم ترین بحری اڈے تھے جن پر بہت زیادہ بمباری کی گئی تھی۔

جنگ ختم ہونے سے قبل آخری دنوں میں ریڈ آرمی کی پیش قدمی روکنے کے لیے جہاز پر نصب توپوں کا استعمال کیا جارہا تھا۔

16 اپریل 1945 کو رائل ایئرفورس نے 617 اسکواڈرن سے 18لنکاسٹر بمبار بھیجے تھے۔

بمباروں نے 12 ٹال بوائز سے حملہ کیا تھا جن میں ایک وہ بم بھی شامل تھا جو اس وقت پھٹنے میں ناکام ہوگیا تھا۔

ٹیل بوائے کو ہدف کے قریب گر کر زیر زمین پھٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جس سے نکلنے والی شاک ویوز تباہی پھیلاتی تھیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

باجوڑ: سرحد پار سے دہشت گردوں کی چیک پوسٹ پر فائرنگ، پاک فوج کا جوان شہید

صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے باجوڑ میں پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر سرحد پار سے دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔
tanveer-wSD