افغانستان میں امریکا کو مطلوب القاعدہ کا اہم رہنما مارا گیا

ویب ڈیسک

کابل: افغان فورسز نے امریکا کو انتہائی مطلوب، القاعدہ کے ایک اہم ترین عسکریت پسند کو ہلاک کردیا، ساتھ ہی افغان حکومت نے طالبان پر اب بھی عسکری گروہوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

0 0
Read Time:2 Minute, 13 Second

کابل: افغان فورسز نے امریکا کو انتہائی مطلوب، القاعدہ کے ایک اہم ترین عسکریت پسند کو ہلاک کردیا، ساتھ ہی افغان حکومت نے طالبان پر اب بھی عسکری گروہوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

سوہنی دھرتی اخبار میں شائع ہونے والی فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مصری شہری ابو محسن المرسی برصغیر میں دوسرا اہم ترین رہنما سمجھا جاتا تھا جسے افغان مشرقی صوبے غزنی میں نشانہ بنایا گیا۔

افغان خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی نے آپریشن کی مزید تفصیلات نہیں بتائی کہ آپریشن کس طرح اور کب کیا گیا۔

افغانستان کے وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے دعویٰ کیا کہ القاعدہ کے رہنما کی ہلاکت طالبان اور القاعدہ کے مابین تعلقات کو ظاہر کرتی ہے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے ہاتھوں القاعدہ کے اہم اراکین میں سے ایک کی ہلاکت، طالبان کے دہشت گردہ سے قریبی تعلقات کا ظاہر کرتی ہے جو کہ افغان حکومت اور عوام کے خلاف کام کررہےہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ اب بھی دہشت گردوں سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور مختلف فریقین سے جھوٹ بول رہے ہیں‘۔

خیال رہے کہ امریکا کے ساتھ فروری میں ہونے والے تاریخی معاہدے میں طالبان نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ افغان سرزمین کو القاعدہ سمیت غیر ملکی انتہاپسندوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونے دیں گے جس کے جواب میں امریکا نے اپنی افواج کا انخلا کرنا تھا۔

ابو محسن المرسی امریکی ادارے ایف بی آئی کی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں حسام عبدالرؤف کے نام سے موجود تھا۔

ایف بی آئی کے مطابق امریکا کی جانب سے دسمبر 2018 میں اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے اور اس پر غیر ملکی دہشت گردوں کومعاونت اور وسائل فراہم کرنے، امریکی شہریوں کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

افغان خفیہ ایجنسی کے ذرائع نے بتایا کہ صوبہ غزنی میں آپریشن کے دوران ابو محسن المرسی کے ایک معاون کو گرفتار کیا گیا ہے جو ’طالبان کے ساتھ رابطے میں تھا‘۔

دوسری جانب صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ ابو محسن المرسی بڑی حد تک نامعلوم تھا لیکن اس کی ہلاکت یہ ظاہر کرتی ہے اس طرح کے عسکریت پسند اب بھی موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ القاعدہ کے چند اور بہت دور ہی اراکین سہی، لیکن اب بھی موجود ہیں۔

عسکری گروہ میں موجود ذرائع نے بتایا کہ ابو محسن المرسی القاعدہ کے دوسرے درجے کی قیادت سے تعلق رکھتا تھا اس وجہ سے زیادہ تر نامعلوم تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

مودی نے پاکستان اور چین کے ساتھ جنگ کیلئے تاریخ طے کرلی ہے، بی جے پی رہنما کا دعویٰ

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک سینئر رہنما نے کہا ہے کہ نریندر مودی نے پاکستان اور چین کے ساتھ جنگ کے لیے تاریخ طے کرلی ہے۔
modi-wSD