ترکی: استنبول کی تاریخی مسجد میں آتشزدگی

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:1 Minute, 39 Second

ترکی کے شہر استنبول میں لکڑی سے بنی تاریخی مسجد میں آگ لگنے سے شدید نقصان پہنچا تاہم فائرفائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔

خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق وانیکوئے مسجد کی تعمیر 17 ویں صدی عیسوی میں عثمان دور کے سلطان چہارم محمد کی حکمرانی میں تعمیر ہوئی تھی۔

تاریخی مسجد استنبول میں آبنائے باسفورس میں واقع ہے جبکہ میڈیا میں سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسجد سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

استنبول کے فائر ڈپارٹمنٹ نے ٹوئٹ میں کہا کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

فائرفائٹرز نے آگ کو مزید پھیلنے سے روکا جبکہ مسجد کے ساتھ ہی جنگل ہے اور ساتھ ہی باسفورس کے رہائشی مکانات بھی ہیں۔

استنبول کی تاریخی مسجد کا ڈھانچہ لکڑی کا بنا ہوا ہے اور ایک مینار ہے۔

مسجد میں آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہ ہوسکی اور شہر کے گورنر کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

یاد رہے رواں برس ترک عدالت کی جانب سے تاریخی عمارت آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی اجازت دیے جانے کے بعد 24 جولائی کو وہاں پہلی بار 86 سال کے بعد نماز ادا کی گئی تھی۔

ترک عدالت نے 10 جولائی کو آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے 11 جولائی کو عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی۔

آیا صوفیہ عمارت کو 1934 میں مصطفیٰ کمال اتاترک نے میوزیم میں تبدیل کردیا تھا، اس سے قبل مذکورہ عمارت سلطنت عثمانیہ کے قیام سے مسجد میں تبدیل کی گئی تھی۔

استنبول میں واقع یہ تاریخی عمارت 1453 سے قبل 900 سال تک بازنطینی چرچ کے طور پر استعمال ہوتی تھی اور یہ بھی معروف ہے کہ مذکورہ عمارت کو سلطنت عثمانیہ کے بادشاہوں نے پیسوں کے عوض خرید کر مسجد میں تبدیل کیا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

والدین نے ڈپریشن سے نمٹنے کیلئے مصروف نہ رہنے کا مشورہ دیا، بیٹی عامر خان

بولی وڈ مسٹر پرفیکشنٹ عامر خان کی بیٹی ارا خان نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں انتہائی کم عمری میں اپنے ہی رشتہ داروں نے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا اور جب ان کا استحصال کیا گیا، اس وقت انہیں پتا ہی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو […]
AMIR-KHAN-wSD