ترکی کے ساتھ رواں ہفتے آزادانہ تجارت کے معاہدے پر دستخط کریں گے، برطانیہ

ویب ڈیسک
0 0
Read Time:2 Minute, 32 Second

برطانیہ کی وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کا یورپی یونین سے نیا تجارتی معاہدہ حاصل کرنے کے بعد برطانیہ اور ترکی کے درمیان منگل کو آزادانہ تجارت کے معاہدے پر دستخط ہوں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک ایک معاہدے پر دستخط کریں گے جس میں انقرہ اور لندن کے درمیان موجودہ تجارتی شرائط کی نقل ہوگا تاہم برطانوی وزیر تجارت لِز ٹروس نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس معاہدے پر دستخط کرنے کی توقع کرتے ہیں جس سے ٹیرف فری تجارتی انتظامات ہوں گے اور ہمارے تجارتی تعلقات کو مدد ملے گی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس سے مینوفیکچرنگ، آٹوموٹو اور اسٹیل کی صنعتوں میں برطانیہ میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اب ہم مستقبل قریب میں ترکی کے ساتھ برطانیہ اور ترکی کے تجارتی معاہدے کے تحت کام کرنے کے منتظر ہیں’۔

2019 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی لاگت 25 ارب 25 کروڑ ڈالر تھی۔

برطانیہ کا کہنا تھا کہ جاپان، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ اور ناروے کے ساتھ معاہدوں کے بعد وزارت تجارت نے یہ پانچواں سب سے بڑا تجارتی معاہدہ کیا ہے۔

برطانیہ نے یکم جنوری کو بریگزٹ منتقلی کی مدت کے اختتام سے قبل 62 ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

اس نے گزشتہ ہفتے یورپی یونین، اس کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کے ساتھ بھی تجارتی معاہدہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ 26 جون 2016 کو برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ ڈال کر بریگزٹ کو کامیاب بنایا تھا تاہم یورپی یونین سے کس طرح نکلا جائے اس پر تقسیم اس قدر بڑھ گئی کہ بغیر معاہدے، یونین کو چھوڑنے کا ڈر خوف برطانوی عوام اور سیاستدانوں کو ستانے لگا۔

بریگزٹ کا معاملہ کئی برس سے زیر بحث تھا اور بریگزٹ کی منظوری میں ناکامی پر برطانوی وزیر اعظم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

جولائی 2016 میں وزیر اعظم بننے والی تھریسامے نے بریگزٹ معاہدے پر عوامی فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن شدید مخالفت کی وجہ سے وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی تھیں جس کے بعد نو منتخب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔

یاد رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔

بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتداء میں معاشی مشکلات ضرور پیدا ہوں گی تاہم مستقبل میں اس کا فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں خرچ ہوسکے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ریاست کے تمام ستون اپنے دائرہ کار میں رہ کر ملکی ترقی کیلئے کام کر رہے ہیں، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ریاست کے تمام ستون اپنے دائرہ کار میں رہ کر ملک کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ دفتر وزیراعظم سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے مشیر پارلیمانی امور ظہیرالدین بابر اعوان نے ملاقات کی۔ مذکورہ ملاقات میں […]
pm-imran-khan-wSD