یورپی پارلیمنٹ نے آنگ سان سو چی کو ‘رائٹز پرائز کمیونٹی’ سے برطرف کردیا

ویب ڈیسک

برسلز: یورپی پارلیمنٹ نے میانمار کی سویلین رہنما آنگ سان سوچی کو روہنگیا برادری کے خلاف ریاستی جرائم کا ‘اعتراف’ کرنے پر ‘سخاروف پرائز کمیونٹی’ سے ہٹا دیا۔

0 0
Read Time:1 Minute, 44 Second

برسلز: یورپی پارلیمنٹ نے میانمار کی سویلین رہنما آنگ سان سوچی کو روہنگیا برادری کے خلاف ریاستی جرائم کا ‘اعتراف’ کرنے پر ‘سخاروف پرائز کمیونٹی’ سے ہٹا دیا۔

سوہنی دھرتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی اسمبلی نے سابقہ جمہوری مہم چلانے والی خاتون کو نوبل امن انعام ملنے سے ایک سال قبل 1990 میں اپنے اعلیٰ انسانی حقوق کا اعزاز سے نوازا تھا تاہم اب وہ انعام یافتہ افراد کی تقاریب میں حصہ نہیں لیں گی۔

پارلیمنٹ کے ایک قریبی ذرائع نے بتایا کہ آنگ سان سوچی کے کام کے لیے یہ انعام انہیں 1990 سے پہلے دیا گیا تھا لہذا اسے واپس نہیں لیا جاسکتا ہے لیکن ان کا اخراج ایم ای پیز کے لیے سب سے مضبوط پابندی ہے۔

پارلیمنٹ میں اسپیکر اور گروپ رہنماؤں کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ‘ان کے عمل کرنے میں ناکامی اور میانمار میں روہنگیا برادری کے خلاف جاری جرائم کو قبول کرنے پر ردعمل میں تھا’۔

میانمار میں روہنگیا مسلمان اقلیتوں کے ساتھ طویل عرصے سے امتیازی سلوک کیا جارہا ہے اور 2017 میں تقریبا 7 لاکھ 40 ہزار افراد فوجی آپریشن سے بچنے کے لیے بنگلہ دیش فرار ہوگئے تھے۔

فوجی حکمرانی کے خاتمے کے لیے لڑنے والی ایک سابق سیاسی قیدی آنگ سان سو چی اس وقت میانمار کی سب سے طاقتور سویلین رہنما ہے۔

انہیں آزادی کی چیمپیئن کی حیثیت سے پوری دنیا میں اعزازات سے نوازا گیا تھا۔

تاہم ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے روہنگیا اقلیتوں کے خلاف بدسلوکیوں پر آنکھیں بند کرلی ہیں۔

واضح رہے کہ میانمار میں پناہ گزینوں کو شہری آزادی سے محروم کردیا گیا ہے اور میانمار میں اب بھی رہنے والے 6 لاکھ روہنگیا باشندوں کی شہریت ختم کردی گئی ہے۔

آنگ سان سوچی کا سخاروف انعام کے مراعات سے محروم ہونا ایک بڑی علامت ہے۔

انہیں پہلے ہی دنیا کے کئی ممالک نے مسترد کردیا ہے خاص طور پر جب انہوں نے اپنے ملک میں عصمت دری، جلاؤ گھیراؤ اور اجتماعی قتل کے الزامات کا بین الاقوامی عدالت انصاف میں دفاع کیا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

محمد علی جناح: معاملہ بانی پاکستان کی ایک روپیہ تنخواہ اور دو بار نمازِ جنارہ کا

قائداعظم کا پہلا پے بل اگست 1947ء تا جنوری 1948ء کا بنایا گیا۔ اس کی مجموعی رقم 57795.13 تھی جو انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس منہا کرنے کے بعد 34588.5 روپے بنی جیسا کہ اوپر بیان ہوا بانی پاکستان کی مجموعی تنخواہ 10416 روپے 10 آنے اور آٹھ پائی تھیں۔ آٹھ پائی حساب کتاب میں دقت کا سبب بن رہی تھیں چنانچہ فروری 1948 کے بل میں یہ تصریح کی گئی کہ جنوری کے بل میں 10416 روپے 11 آنے وصول کیے گئے جو چار پائی زیادہ تھے چنانچہ وہ رقم فروری 1948 کے بل میں دو آنے کم وصول کر کے برابر کر دی گئی ہے۔ بل کے صفحہ نمبر 10 پر اکاؤنٹس آفیسر نے ہدایت درج کردی کہ مارچ 1948 کا بل 10416 روپے 10 آنے کے حساب سے پاس کیا گیا ہے اور آئندہ بھی اتنا بل بنایا جائے اور اس ماہانہ فرق کو آٹھ آنے فی سال کے حساب سے آئندہ فروری کی تنخواہ میں، جو مارچ 1949 میں وصول ہو گی، برابر کر لیا جائے چنانچہ اپریل 1948 کا بل اسی حساب سے بنایا گیا۔ یہ تنخواہ لائیڈز بینک کراچی میں جمع ہوتی تھی جہاں بانی پاکستان کا اکائونٹ نمبر 1 تھا۔ جب محمد علی جناح کی وفات ہوئی تو ان کی تنخواہ کا بل اے جی پی آر کے دفتر میں برائے منظوری موجود تھا۔ اس بل پر قائداعظم نے 24 اگست 1948 کو دستخط کیے تھے، ظاہر اس میں ستمبر1948ء کے 11 دنوں کی تنخواہ شامل نہ تھی۔ چنانچہ اے جی پی آر نے حساب لگایا کہ اگست اور ستمبر کی تنخواہ ملا کر15036 روپے ایک آنہ بنتی ہے۔ اس حساب کتاب کے وقت معلوم ہوا کہ تنخواہ سے انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی مد میں یکم مارچ 1948 سے 31 جولائی 1948 کے عرصے کے لیے منہا کی جانے والی رقم 4434 روپے سات آنے زائد تھی، چنانچہ اگست 1948 کے بل سے ٹیکس کٹوتی نہ کی گئی اور قائداعظم کے وصیت کے مطابق ان کے وراثت کے ذمہ داروں یعنی مس فاطمہ جناح اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے حوالے کر دیا گیا۔ ان دونوں بلوں کی رقم 14236 روپے پانچ آنے تھی جو فاطمہ جناح کو بھجوا دی گئی۔ اس میں اگست 1948 کی تنخواہ 10416 روپے 10 آنے جبکہ ستمبر 1948 کے 11 دنوں کی تنخواہ 3829 روپے 11آنے تھی۔ سمچوری الاؤنس میں بقایا رقم 12129 روپے ایک آنہ 11 پائیاں فاطمہ جناح کو بذریعہ خط الگ بھجوائی گئیں۔ یہ ہے بانی پاکستان محمد علی جناح کی تنخواہ کا اصل قصہ جس کی تصدیق نیشنل آرکائیوز آف پاکستان اور قائداعظم پیپر سیل اسلام آباد سے کی جا سکتی ہے۔
Quaide-azam-wSD